المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصيام— روزے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابٌ بَابُ مَا يَصْنَعُ مَنْ جَامَعَ أَوْ أَفْطَرَ عَامِدًا باب: جان بوجھ کر جماع یا روزہ توڑنے والے کے عمل کا بیان۔
حدیث نمبر: 1035
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : إِنِّي أَفْطَرْتُ يَوْمًا فِي رَمَضَانَ . قَالَ : تَصَدَّقْ لِمَا صَنَعْتَ ، وَصُمْ يَوْمًا مَكَانَهُ ، وَاسْتَغْفِرِ اللهَ تَعَالَى .ترجمہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میں نے رمضان المبارک کا ایک روزہ (بغیر عذر کے) توڑ دیا ہے، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم نے جو عمل کیا ہے اس کے بدلے صدقہ کرو، اس کی جگہ (قضا کے طور پر) ایک روزہ رکھو اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتے ہوئے «أَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ تَعَالَى» (میں اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگتا ہوں) کہو۔“