❮
❯
حدیث نمبر: 1010
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي سَمِينَةَ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ ، حَدَّثَنِي جَرِيرُ بْنُ أَيُّوبَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ بُرْدَةَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ وَقَدْ أَهَلَّ شَهْرُ رَمَضَانَ : لَوْ يَعْلَمُ الْعِبَادُ مَا فِي رَمَضَانَ لَتَمَنَّتْ أُمَّتِي أَنْ تَكُونَ السَّنَةُ كُلُّهَا رَمَضَانَ . فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَةَ : حَدِّثْنَا بِهِ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ الْجَنَّةَ لَتَزَيَّنُ فِي رَمَضَانَ مِنْ رَأْسِ الْحَوْلِ إِلَى رَأْسِ الْحَوْلِ ، حَتَّى إِذَا كَانَ أَوَّلُ يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ هَبَّتْ رِيحٌ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ فَصَفَّقَتْ وَرَقَ الْجَنَّةِ ، فَتَنْظُرُ الْحُورُ الْعِينُ إِلَى ذَلِكَ ، فَتَقُولُ : يَا رَبِّ اجْعَلْ لَنَا مِنْ عِبَادِكَ فِي هَذَا الشَّهْرِ الشَّرِيفِ أَزْوَاجًا تَقَرُّ أَعْيُنُنَا بِهِمْ ، وَتَقَرُّ أَعْيُنُهُمْ بِنَا . فَمَا مِنْ عَبْدٍ يَصُومُ رَمَضَانَ إِلَّا زُوِّجَ زَوْجَةً مِنَ الْحُورِ الْعِينِ فِي خَيْمَةٍ مِنْ دُرَّةٍ مُجَوَّفَةٍ مِمَّا نَعَتَ اللهُ تَعَالَى : حُورٌ مَقْصُورَاتٌ فِي الْخِيَامِ عَلَى كُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ سَبْعُونَ حُلَّةً ، لَيْسَ فِيهَا حُلَّةٌ عَلَى لَوْنِ الْأُخْرَى ، وَيُعْطَى سَبْعِينَ لَوْنًا مِنَ الطِّيبِ ، لَيْسَ مِنْهَا لَوْنٌ عَلَى رِيحِ الْآخَرِ ، لِكُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ سَبْعُونَ سَرِيرًا مِنْ يَاقُوتَةٍ حَمْرَاءَ مُوَشَّحَةٍ بِالدُّرِّ ، عَلَى كُلِّ سَرِيرٍ سَبْعُونَ فِرَاشًا بَطَائِنُهَا مِنْ إِسْتَبْرَقٍ ، وَفَوْقَ السَّبْعِينَ فِرَاشًا سَبْعُونَ أَرِيكَةً ، لِكُلِّ امْرَأَةٍ أَلْفُ وَصِيفَةٍ لِحَاجَاتِهَا ، وَأَلْفُ وَصِيفٍ ، مَعَ كُلِّ وَصِيفٍ صَحْفَةٌ مِنْ ذَهَبٍ فِيهَا لَوْنُ طَعَامٍ ، يَجِدُ لِآخِرِ لُقْمَةٍ مِنْهَا لَذَّةً لَا يَجِدُ لِأَوَّلِهِ ، وَيُعْطَى زَوْجُهَا مِثْلَ ذَلِكَ عَلَى سَرِيرٍ مِنْ يَاقُوتَةٍ حَمْرَاءَ ، عَلَيْهِ سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ مُتَوَشَّحٍ بِيَاقُوتٍ أَحْمَرَ . هَذَا بِكُلِّ يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ سِوَى مَا عَمِلَ مِنَ الْحَسَنَاتِ .
قُلْتُ : تَفَرَّدَ بِهِ جَرِيرُ بْنُ أَيُّوبَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا .
وَقَدْ أَخْرَجَهُ ابْنُ خُزَيْمَةَ فِي صَحِيحِهِ ، وَقَالَ : إِنْ صَحَّ الْخَبَرُ ، فَإِنَّ فِي الْقَلْبِ مِنْ جَرِيرِ بْنِ أَيُّوبَ ، وَكَأَنَّهُ تَسَاهَلَ فِيهِ لِكَوْنِهِ مِنَ الرَّغَائِبِ .
وَابْنُ مَسْعُودٍ لَيْسَ هُوَ الْهُذَلِيَّ الْمَشْهُورَ ، وَإِنَّمَا هُوَ آخَرُ غِفَارِيٌّ .
ترجمہ

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو رمضان المبارک کا چاند طلوع ہونے پر یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اگر بندوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ رمضان میں کیا (برکات و فضائل) پوشیدہ ہیں، تو میری امت یہ تمنا کرتی کہ کاش پورا سال ہی رمضان ہوتا۔“ اس پر قبیلہ خزاعہ کے ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمیں اس کی تفصیل بتائیے، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یقیناً جنت کو رمضان کی خاطر سال کے آغاز سے اختتام تک آراستہ کیا جاتا ہے، یہاں تک کہ جب رمضان کا پہلا دن آتا ہے تو عرش کے نیچے سے ایک ہوا چلتی ہے جو جنت کے درختوں کے پتوں کو ٹکراتی ہے، اس (منظر اور آواز) کو دیکھ کر حورِ عین عرض کرتی ہیں: « يَا رَبِّ اجْعَلْ لَنَا مِنْ عِبَادِكَ فِي هَذَا الشَّهْرِ الشَّرِيفِ أَزْوَاجًا تَقَرُّ أَعْيُنُنَا بِهِمْ ، وَتَقَرُّ أَعْيُنُهُمْ بِنَا » ”اے ہمارے رب! اپنے بندوں میں سے اس معزز مہینے میں ہمارے لیے ایسے شوہر بنا دے جن سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور ان کی آنکھیں ہمیں دیکھ کر ٹھنڈی ہوں۔“ پس جو بندہ بھی رمضان کے روزے رکھتا ہے، اس کا نکاح حورِ عین میں سے ایک ایسی زوجہ سے کر دیا جاتا ہے جو ایک ہی جوف دار (کھوکھلے) موتی کے بنے ہوئے خیمے میں ہوتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا وصف بیان فرمایا ہے: ﴿ حُورٌ مَقْصُورَاتٌ فِي الْخِيَامِ ﴾ (سورت الرحمن: 72) ”وہ حوریں جو خیموں میں پردہ نشین ہیں“۔ ان میں سے ہر خاتون پر ستر (70) ایسے جوڑے ہوں گے جن میں سے ہر ایک کا رنگ دوسرے سے جدا ہوگا، اسے ستر طرح کی خوشبوئیں عطا کی جائیں گی جن میں سے ہر ایک کی مہک دوسرے سے مختلف ہوگی، ان میں سے ہر ایک کے لیے سرخ یاقوت کے ستر تخت ہوں گے جن پر موتیوں کا جڑاؤ کیا گیا ہوگا، ہر تخت پر ستر بستر ہوں گے جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے، اور ان ستر بستروں کے اوپر ستر اونچی مسندیں ہوں گی، ہر خاتون کی خدمت کے لیے ایک ہزار لونڈیاں اور ایک ہزار غلام ہوں گے، ہر غلام کے پاس سونے کا ایک پیالہ ہوگا جس میں الگ قسم کا کھانا ہوگا، وہ شخص اس کے آخری لقمے میں بھی وہی لذت محسوس کرے گا جو اس نے پہلے لقمے میں پائی تھی، اور اس کے شوہر کو بھی اسی طرح سرخ یاقوت کے تخت پر (اعزازات) دیے جائیں گے جس پر سونے کے دو کنگن ہوں گے جو سرخ یاقوت سے جڑے ہوں گے۔ یہ سب انعامات رمضان کے ہر دن کے عوض ہیں، علاوہ ان نیکیوں کے جو اس نے (اس مہینے میں) انجام دیں۔“
میں کہتا ہوں کہ اس حدیث کو روایت کرنے میں جریر بن ایوب تنہا ہیں اور وہ نہایت ضعیف راوی ہیں۔
امام ابن خزیمہ نے اسے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے اور فرمایا کہ اگر یہ خبر صحیح ثابت ہو جائے (تو بہتر)، کیونکہ میرے دل میں جریر بن ایوب کے بارے میں کھٹک ہے، اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اس حدیث کو ترغیب و فضائل کے باب سے ہونے کی وجہ سے روایت کرنے میں نرمی برتی ہے۔
نیز یہاں ابن مسعود سے مراد مشہور ہذلی صحابی (عبداللہ بن مسعود) نہیں بلکہ ایک دوسرے غفاری صحابی ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصيام / حدیث: 1010
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: تَفَرَّدَ بِهِ جَرِيرُ بْنُ أَيُّوبَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . »
«أخرجه صحيح ابن خزيمة برقم: 1886، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 4176، 4177، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 2199»