❮
❯
حدیث نمبر: 1009
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، وَالْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ، جَمِيعًا : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، ثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أُعْطِيَتْ أُمَّتِي خَمْسَ خِصَالٍ فِي رَمَضَانَ لَمْ تُعْطَهَا أُمَّةٌ قَبْلَهُمْ ، خُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ ، وَتَسْتَغْفِرُ لَهُمُ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يُفْطِرُوا ، وَيُزَيِّنُ اللهُ كُلَّ يَوْمٍ جَنَّتَهُ ثُمَّ يَقُولُ : يُوشِكُ عِبَادِي الصَّائِمُونَ أَنْ يُلْقُوا عَنْهُمُ الْمُؤْنَةَ وَالْأَذَى ، وَيَصِيرُوا إِلَيْكِ ، وَتُصَفَّدُ فِيهِ مَرَدَةُ الشَّيَاطِينِ ، فَلَا يَخْلُصُونَ فِيهِ إِلَى مَا كَانُوا يَخْلُصُونَ فِي غَيْرِهِ ، وَيُغْفَرُ لَهُمْ فِي آخِرِ لَيْلَةٍ ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، هِيَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا ، وَلَكِنَّ الْعَامِلَ إِنَّمَا يُوَفَّى أَجْرَهُ إِذَا قَضَى عَمَلَهُ .
هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ .
ترجمہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میری امت کو رمضان المبارک کے مہینے میں پانچ ایسی خصوصیات عطا کی گئی ہیں جو ان سے پہلے کسی امت کو نہیں دی گئیں؛ (پہلی یہ کہ) روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے، فرشتے ان کے لیے افطار کرنے تک مغفرت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں، اللہ تعالیٰ ہر روز اپنی جنت کو آراستہ فرماتا ہے اور پھر ارشاد فرماتا ہے کہ قریب ہے کہ میرے نیک بندے دنیا کی مشقتیں اور تکلیفیں پیچھے چھوڑ کر تیری طرف آ جائیں، اس مہینے میں سرکش شیطانوں کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں چنانچہ وہ ان برائیوں تک نہیں پہنچ پاتے جن تک وہ دیگر مہینوں میں پہنچ جایا کرتے تھے، اور رمضان کی آخری رات میں ان روزہ داروں کی مغفرت کر دی جاتی ہے“، عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا وہ لیلۃ القدر ہوتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ قاعدہ یہ ہے کہ جب کام کرنے والا اپنا کام مکمل کر لیتا ہے تو اسے اس کی پوری اجرت دے دی جاتی ہے“۔
یہ سند ضعیف ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصيام / حدیث: 1009
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ . »
«أخرجه سنن الترمذي برقم: 682، 764، وأخرجه سنن النسائي برقم: 2097، 2214، وأخرجه سنن ابن ماجه برقم: 1642، وأخرجه مسند أحمد برقم: 7857، وأخرجه سنن الدارمي برقم: 1775، وأخرجه فتح الباري برقم: 1795، 1796، 3103، 6190، 7054، 7100، وأخرجه مسند البزار برقم: 1874، وأخرجه المستدرك على الصحيحين برقم: 1572، وأخرجه صحيح ابن خزيمة برقم: 1882، 1883، 1897، 1992، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 10198، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 53، 954، 1586، 1963، 3047، 8487، 9036، وأخرجه البحر الزخار المعروف بمسند البزار 10 - 18 برقم: 8571، وأخرجه شرح مشكل الآثار برقم: 3013»