المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصيام— روزے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ رَمَضَانَ باب: رمضان المبارک کی فضیلت و برتری کا بیان۔
وَقَالَ أَيْضًا : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ ، ثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ حَمْزَةَ أَبُو أُسَيْدٍ ، ثَنَا خَلَفٌ أَبُو الرَّبِيعِ : قَالَ أَنَسٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ حَضَرَ رَمَضَانُ : سُبْحَانَ اللهِ ، مَاذَا تَسْتَقْبِلُونَ ، أَوْ مَاذَا يَسْتَقْبِلُ الْمَرْءُ ثَلَاثًا . فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، وَحْيٌ نَزَلَ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا . قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : فَعَدُوٌّ حَضَرَ ؟ قَالَ : لَا . قَالَ : فَمَاذَا ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللهَ تَعَالَى يَغْفِرُ فِي أَوَّلِ لَيْلَةٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ لِكُلِّ أَهْلِ الْقِبْلَةِ . فَنَظَرَ إِلَى إِنْسَانٍ قَاعِدٍ بَيْنَ يَدَيْهِ وَهُوَ يُحَرِّكُ رَأْسَهُ وَيَقُولُ : بَخٍ بَخٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَأَنَّهُ ضَاقَ صَدْرُكَ قَالَ : لَا ، وَلَكِنْ ذَكَرْتُ الْمُنَافِقِينَ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ الْمُنَافِقَ هُوَ الْكَافِرُ ، وَلَيْسَ لِلْكَافِرِ مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ .
أَخْرَجَهُ ابْنُ خُزَيْمَةَ ، وَقَالَ : إِنْ صَحَّ الْخَبَرُ فَإِنِّي لَا أَعْرِفُ خَلَفًا وَلَا عَمْرَو بْنَ حَمْزَةَ الْقَيْسِيَّ بِعَدَالَةٍ وَلَا جَرْحٍ .
( 40 ) حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي أَوَّلِ أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ .سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رمضان المبارک کا مہینہ قریب آیا تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”«سُبْحَانَ اللهِ» (اللہ پاک ہے)، تم کس عظیم چیز کا استقبال کر رہے ہو؟ یا کون سی چیز تمہارا استقبال کر رہی ہے؟“ آپ ﷺ نے یہ کلمات تین مرتبہ ادا فرمائے۔ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: یا رسول اللہ! کیا کوئی نئی وحی نازل ہوئی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ انہوں نے عرض کیا: کیا کسی دشمن کی آمد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ انہوں نے پھر پوچھا: تو پھر وہ کیا بات ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ ماہِ رمضان کی پہلی ہی رات میں تمام اہل قبلہ کی مغفرت فرما دیتا ہے۔“ اسی دوران آپ ﷺ نے اپنے سامنے بیٹھے ایک شخص کی طرف دیکھا جو (تعجب سے) اپنا سر ہلاتے ہوئے کہہ رہا تھا: «بَخٍ بَخٍ» (واہ واہ، کیا ہی خوب ہے!)، تو نبی کریم ﷺ نے اس سے دریافت فرمایا: ”شاید تمہارا سینہ اس بات پر تنگ ہو رہا ہے؟“ اس نے عرض کیا: جی نہیں، بلکہ مجھے منافقین کا خیال آگیا تھا، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”منافق تو حقیقت میں کافر ہی ہے، اور کافر کے لیے اس مغفرت میں سے کوئی حصہ نہیں ہے۔“
اسے امام ابن خزیمہ نے روایت کیا ہے اور فرمایا کہ اگر یہ روایت صحیح ہے تو میں خلف اور عمرو بن حمزہ القیسی کی ثقاہت یا جرح کے بارے میں نہیں جانتا۔
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کی حدیث انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کے تذکرے کی ابتدائی احادیث میں موجود ہے۔