المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصيام— روزے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الصَّوْمِ باب: روزے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1002
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ ، ثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ أَنَّ رَجُلًا صَامَ يَوْمًا تَطَوُّعًا ، ثُمَّ أُعْطِيَ مِلْءَ الْأَرْضِ ذَهَبًا ، لَمْ يَسْتَوْفِ ثَوَابَهُ دُونَ الْحِسَابِ .ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اگر کوئی شخص اللہ کی رضا کے لیے ایک دن کا نفلی روزہ رکھے اور پھر اسے صلے کے طور پر پوری زمین کے برابر سونا بھی دے دیا جائے، تب بھی وہ روزِ حساب کے اجر سے پہلے اس کا ثواب پورا نہیں پا سکے گا۔“