❮
❯
حدیث نمبر: 1001
وَقَالَ الْحَارِثُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ بِشْرُ بْنُ أَبِي بِشْرٍ الْبَصْرِيُّ ، أَخْبَرَنِي الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْحَرَّانِيُّ ، ثَنَا حَيَّانُ الْبَصْرِيُّ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ نُوحٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَقْبَلَ عَلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَقَالَ : يَا أُسَامَةُ عَلَيْكَ بِطَرِيقِ الْجَنَّةِ ، وَإِيَّاكَ أَنْ تَخْتَلِجَ دُونَهَا . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَا أَسْرَعُ مَا يُقْطَعُ بِهِ ذَلِكَ الطَّرِيقُ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الظَّمَأُ فِي الْهَوَاجِرِ ، وَحَبْسُ النَّفْسِ عَنْ لَذَّةِ النِّسَاءِ . يَا أُسَامَةُ ، وَعَلَيْكَ بِالصَّوْمِ ; فَإِنَّهُ يُقَرِّبُ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ، إِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَى اللهِ تَعَالَى مِنْ رِيحِ فَمِ الصَّائِمِ ، تَرَكَ الطَّعَامَ وَالشَّرَابَ لِلهِ تَعَالَى ، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ يَأْتِيَكَ الْمَوْتُ وَبَطْنُكَ جَائِعٌ وَكَبِدُكَ ظَمْآنُ فَافْعَلْ ، فَإِنَّكَ تُدْرِكُ بِذَلِكَ شَرَفَ الْمَنْزِلِ فِي الْآخِرَةِ ، وَتَحُلُّ مَعَ النَّبِيِّينَ ، فَتَفْرَحُ بِقُدُومِ رُوحِكَ عَلَيْهِمْ ، وَيُصَلِّي عَلَيْكَ الْجَبَّارُ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَفِيهِ : وَاعْلَمْ يَا أُسَامَةُ أَنَّ أَقْرَبَ النَّاسِ مِنَ اللهِ تَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَمَنْ طَالَ حُزْنُهُ وَعَطَشُهُ وَجُوعُهُ فِي الدُّنْيَا . وَسَيَأْتِي إِنْ شَاءَ اللهُ بِتَمَامِهِ فِي الزُّهْدِ .
ترجمہ

سیدنا سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا: ”اے اسامہ! تم پر جنت کی راہ لازم ہے اور اس بات سے بچنا کہ کہیں تمہیں اس کے حصول سے پہلے ہی راستے سے اچک نہ لیا جائے“، انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ کون سا عمل ہے جس سے یہ راستہ نہایت تیزی سے طے ہو جاتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کڑی دوپہروں کی پیاس برداشت کرنا اور نفس کو عورتوں کی لذت (خواہش) سے باز رکھنا؛ اے اسامہ! روزے کو اپنے اوپر لازم کر لو کیونکہ یہ اللہ عزوجل کے مقرب بنا دیتا ہے، یقیناً اللہ تعالیٰ کے ہاں اس شخص کے منہ کی بو سے زیادہ کوئی چیز محبوب نہیں جس نے محض اللہ کی خاطر کھانا اور پینا چھوڑ دیا ہو، پس اگر تم اس بات کی قدرت رکھتے ہو کہ تمہیں موت اس حال میں آئے کہ تمہارا پیٹ بھوکا اور جگر پیاسا ہو تو ایسا ضرور کرنا، کیونکہ اس عمل کے باعث تم آخرت میں نہایت بلند و بالا مقام پاؤ گے اور انبیاء کرام علیہم السلام کی رفاقت میں رہو گے، وہ تمہاری روح کی آمد پر خوشیاں منائیں گے اور خدائے جبار تم پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے گا“، پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی جس میں یہ الفاظ بھی ہیں: ”اے اسامہ! جان لو کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہوں گے جن کا دنیا میں رنج و ملال، پیاس اور بھوک کا دورانیہ طویل رہا“
امام حارث فرماتے ہیں کہ «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» (اگر اللہ نے چاہا) تو یہ روایت اپنی تمام تر تفصیلات کے ساتھ عنقریب کتاب الزہد میں آئے گی۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصيام / حدیث: 1001
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا. »
«أخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 3176»