المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْغَدِيرِ يَقَعُ فِيهِ الْجِيفَةُ وَحُكْمِ الْمَاءِ الرَّاكِدِ باب: تالاب میں مردار گرنے اور ٹھہرے ہوئے پانی کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 9
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْبُوذٍ ، عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ : " كُنَّا نُسَافِرُ مَعَ مَيْمُونَةَ فَتَنْزِلُ عَلَى الْغُدْرَانِ فِيهَا الْجِعْلَانُ وَالْبَعْرُ ، فَنَسْتَقِي لَهَا مِنْهُ ، لَا تَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا " .ترجمہ
منبوذ اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا: ”ہم ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہمراہ سفر کیا کرتے تھے، تو وہ (دورانِ سفر) ایسے تالابوں اور جوہڑوں پر پڑاؤ کرتیں جن میں گوبر کے کیڑے اور جانوروں کا فضلہ (مینگنیاں وغیرہ) موجود ہوتا تھا، پھر ہم ان کے لیے اسی میں سے پانی بھر لاتے تھے اور وہ اس (پانی کے استعمال) میں کوئی حرج یا قباحت محسوس نہیں کرتی تھیں۔“