❮
❯
حدیث نمبر: 9
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْبُوذٍ ، عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ : " كُنَّا نُسَافِرُ مَعَ مَيْمُونَةَ فَتَنْزِلُ عَلَى الْغُدْرَانِ فِيهَا الْجِعْلَانُ وَالْبَعْرُ ، فَنَسْتَقِي لَهَا مِنْهُ ، لَا تَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا " .
ترجمہ

منبوذ اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا: ”ہم ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہمراہ سفر کیا کرتے تھے، تو وہ (دورانِ سفر) ایسے تالابوں اور جوہڑوں پر پڑاؤ کرتیں جن میں گوبر کے کیڑے اور جانوروں کا فضلہ (مینگنیاں وغیرہ) موجود ہوتا تھا، پھر ہم ان کے لیے اسی میں سے پانی بھر لاتے تھے اور وہ اس (پانی کے استعمال) میں کوئی حرج یا قباحت محسوس نہیں کرتی تھیں۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الطهارة / حدیث: 9
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه البيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 1243، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 9، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 297، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 1518»