حدیث نمبر: 18744
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، تَزْعُمُ أَنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَأْكُلُونَ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّ الرَّجُلَ لَيُعْطَى قُوَّةَ مِائَةِ رَجُلٍ فِي الْأَكْلِ ، وَالشُّرْبِ ، وَالشَّهْوَةِ ، وَالْجِمَاعِ " . فَقَالَ الْيَهُودِيُّ : إِنَّ الَّذِي يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ تَكُونُ لَهُ الْحَاجَةُ ، وَالْجَنَّةُ مُطَهَّرَةٌ ، قَالَ : حَاجَةُ أَحَدِهِمْ عَرَقٌ يَفِيضُ مِنْ جِلْدِهِ كَرِيحِ الْمِسْكِ ، فَإِذَا بَطْنُهُ قَدْ ضَمُرَ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہودیوں سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: اے ابوالقاسم ! آپ کا یہ کہنا ہے کہ اہل جنت اس میں کھائیں گے اور پیئں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ( جنت میں ہر ) شخص کو کھانے پینے شہوت اور صحبت کرنے کی صلاحیت کے حوالے سے ایک سو افراد کے جتنی قوت دی جائے گی ۔ اس یہودی نے کہا: جو شخص کچھ کھاتا ہے یا پیتا ہے ، اُسے قضائے حاجت کی ضرورت بھی پیش آتی ہے ، اور جنت تو پاک صاف ہو گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( جنت میں ) کسی شخص کی قضائے حاجت پسینے کی شکل میں ہو گی ، جو اس کی جلد میں سے بہہ جائے گا اور مشک کی خوشبو کی مانند ہو گا اور پھر اس کا پیٹ ہلکا پھلکا ہو جائے گا ۔
حدیث نمبر: 18745
وَفِي رِوَايَةٍ : بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ يُقَالُ لَهُ : ثَعْلَبَةُ بْنُ الْحَارِثِ ، فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ ، فَقَالَ : " وَعَلَيْكُمْ " . فَقَالَ الْيَهُودُ : تَزْعُمُ أَنَّ فِي الْجَنَّةِ طَعَامًا ، وَشَرَابًا ، وَأَزْوَاجًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ تُؤْمِنُ بِشَجَرَةِ الْمِسْكِ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " وَتَجِدُهَا فِي كِتَابِكُمْ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " فَإِنَّ الْبَوْلَ وَالْجَنَابَةَ عَرَقٌ يَسِيلُ مِنْ تَحْتِ ذَوَائِبِهِمْ إِلَى أَقْدَامِهِمْ مِسْكًا " . رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَأَحْمَدُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، أَلَسْتَ تَزْعُمُ أَنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَأْكُلُونَ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ ؟ وَقَالَ لِأَصْحَابِهِ : إِنْ أَقَرَّ لِي بِهَذِهِ خَصَمْتُهُ ، وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ . وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَالْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ ثُمَامَةَ بْنِ عُقْبَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : راوی بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، اسی دوران یہودیوں سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آیا ، جس کا نام ثعلبہ بن حارث تھا ، اس نے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ پر سلام ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم پر بھی ہو ، یہودی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ کا یہ کہنا ہے ، جنت میں کھانا پینا اور بیویاں ہوں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! تم مشک کے درخت پر ایمان رکھتے ہو ؟ اس نے کہا: جی ہاں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے اپنی کتاب میں اس کا ذکر پایا ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تو پیشاب اور جنابت پینے کی شکل میں ہوں گے ، جو ان کے بالوں کے نیچے سے لے کر قدموں تک بہے گا اور مشک کی طرح ( خوشبودار ہو گا ) ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہیں اور انہوں نے معجم کبیر میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے ،
یہ روایت امام أحمد نے بھی نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اس شخص نے کہا: اے ابوالقاسم ! کیا آپ کا یہ کہنا نہیں ہے : اہل جنت اس میں کھائیں گے اور پیئں گے ، اس نے اپنے ساتھیوں سے یہ کہا: تھا کہ اگر انہوں نے میرے سامنے اس بات کا اقرار کر لیا ، تو پھر میں ان کے ساتھ بحث کروں گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ باقی روایت حسب سابق ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے أحمد اور بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ثمامہ بن عقبہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے بھی نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اس شخص نے کہا: اے ابوالقاسم ! کیا آپ کا یہ کہنا نہیں ہے : اہل جنت اس میں کھائیں گے اور پیئں گے ، اس نے اپنے ساتھیوں سے یہ کہا: تھا کہ اگر انہوں نے میرے سامنے اس بات کا اقرار کر لیا ، تو پھر میں ان کے ساتھ بحث کروں گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ باقی روایت حسب سابق ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے أحمد اور بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ثمامہ بن عقبہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 18746
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنُفْضِي إِلَى نِسَائِنَا فِي الْجَنَّةِ كَمَا نُفْضِي إِلَيْهِنَّ فِي الدُّنْيَا ؟ قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، إِنَّ الرَّجُلَ لَيُفْضِي بِالْغَدَاةَ الْوَاحِدَةَ إِلَى مِائَةِ عَذْرَاءَ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ زَيْدُ بْنُ أَبِي الْحَوَارِيِّ ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! کیا ہم جنت میں اپنی بیویوں کے ساتھ اسی طرح وظیفہ زوجیت ادا کریں گے ، جس طرح دنیا میں ان کے ساتھ وظیفہ زوجیت ادا کرتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے ، کوئی شخص ایک ہی صبح میں 100 بیویوں کے ساتھ وظیفہ زوجیت ادا کر لے گا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی زید بن ابوحواری ہے جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی زید بن ابوحواری ہے جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 18747
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَتَنَاكَحُ أَهْلُ الْجَنَّةِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ . بِذَكَرٍ لَا يَمَلُّ ، وَشَهْوَةٍ لَا تَنْقَطِعُ ، دَحْمًا دَحْمًا " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا : کیا اہل جنت ( یعنی میاں ، بیوی ) وظیفہ زوجیت ادا کریں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! مرد کی شرمگاہ ایسی ہو گی ، جس کا انتشار ختم نہیں ہو گا اور ایسی شہوت ہو گی ، جو منقطع نہیں ہو گی ، وہ بھرپور صحبت کرے گا ۔
حدیث نمبر: 18748
وَفِي رِوَايَةٍ : " لَكِنْ لَا مَنِيَّ وَلَا مَنِيَّةَ " . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” «لَكِنْ لَا مَنِيَّ وَلَا مَنِيَّةَ» “
حدیث نمبر: 18749
وَفِي رِوَايَةٍ : هَلْ يَنْكِحُ أَهْلُ الْجَنَّةِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ وَيَأْكُلُونَ وَيَشْرَبُونَ " . رَوَاهَا [ كُلَّهَا ] الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ بَعْضِهَا وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” کیا اہل جنت نکاح ( یعنی وظیفہ زوجیت ادا ) کریں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! اور وہ کھائیں گے بھی اور پیئں گے بھی ۔ “ یہ تمام روایات امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہیں اور ان میں سے بعض کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ ان میں سے بعض میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 18750
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سُئِلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : هَلْ يَمَسُّ أَهْلُ الْجَنَّةِ أَزْوَاجَهُمْ ؟ قَالَ : " نَعَمْ . بِذَكَرٍ لَا يَمَلُّ ، وَفَرْجٍ لَا يَخْفَى ، وَشَهْوَةٍ لَا تَنْقَطِعُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا : کیا اہل جنت اپنی بیویوں کے ساتھ وظیفہ زوجیت ادا کریں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! یوں کہ مرد کی شرمگاہ کا انتشار ختم نہیں ہو گا اور عورت کی شرمگاہ حفی نہیں ہو گی ۔ اور شہوت منقطع نہیں ہو گی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 18751
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ ، وَعِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ : قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنُفْضِي إِلَى نِسَائِنَا فِي الْجَنَّةِ ؟ فَقَالَ : " إِي وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنَّ الرَّجُلَ لَيُفْضِي فِي الْيَوْمِ الْوَاحِدِ إِلَى مِائَةِ عَذْرَاءَ " . وَرِجَالُ هَذِهِ الرِّوَايَةِ الثَّانِيَةِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ ثَوَابٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِي الرِّوَايَةِ الْأُولَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ بِغَيْرِ كَذِبٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ان کی نقل کردہ اور امام طبرانی کی معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! کیا ہم جنت میں اپنی بیویوں کے ساتھ وظیفہ زوجیت ادا کریں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، آدمی ایک ہی دن میں 100 بیویوں کے ساتھ وظیفہ زوجیت ادا کر لے گا ۔ “ اس دوسری روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن ثواب کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ، پہلی روایت میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے اور وہ ضعیف ہے ، جھوٹا نہیں ہے ، اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 18752
وَعَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يُزَوَّجُ الْعَبْدُ فِي الْجَنَّةِ سَبْعِينَ زَوْجَةً " . فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُطِيقُهَا ؟ قَالَ : " يُعْطَى قُوَّةَ مِائَةٍ " . قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جنت میں آدمی کی شادی 70 بیویوں کے ساتھ کی جائے گی ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! کیا آدمی اس کی طاقت رکھے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسے 100 ( عورتوں کے ساتھ صحبت کرنے ) کی قوت عطا کی جائے گی ۔ “ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 18753
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَهْلُ الْجَنَّةِ إِذَا جَامَعُوا نِسَاءَهُمْ عَادُوا أَبْكَارًا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ مُعَلَّى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْوَاسِطِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اہل جنت جب اپنی بیویوں کے ساتھ وظیفہ زوجیت ادا کر لیں گے ، تو وہ عورتیں پھر کنواری ہو جائیں گی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی معلیٰ بن عبدالرحمن واسطی ہے اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی معلیٰ بن عبدالرحمن واسطی ہے اور وہ کذاب ہے ۔