کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: بھلائی کے ہر عمل کے لیے ، جنت کے دروازوں میں سے مخصوص دروازہ ہے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لِكُلِّ أَهْلِ عَمَلٍ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يُدْعَوْنَ مِنْهُ بِذَلِكَ الْعَمَلِ " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر عمل کرنے والوں کے لیے جنت کے دروازوں میں سے مخصوص دروازہ ہے ، اور ان لوگوں کو اس دروازے سے اس عمل کے حوالے سے بلایا جائے گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عمرو بن علقمہ کا معاملہ مختلف ہے اور ایک جماعت نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب أهل الجنة / حدیث: 18652
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (449/2)»
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ دُعِيَ الْإِنْسَانُ بِأَكْثَرِ عَمَلِهِ ، فَإِنْ كَانَتِ الصَّلَاةُ أَفْضَلَ دُعِيَ بِهَا ، وَإِنْ كَانَ صِيَامُهُ دُعِيَ بِهِ ، وَإِنْ كَانَ الْجِهَادُ دُعِيَ بِهِ ، ثُمَّ يَأْتِي بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يُقَالُ لَهُ : الرَّيَّانُ ، يُدْعَى مِنْهُ الصَّائِمُونَ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَثَمَّ أَحَدٌ يُدْعَى بِعَمَلَيْنِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ . أَنْتَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب قیامت کا دن ہو گا تو انسان کو اس کے سب سے زیادہ عمل کے حوالے سے بلایا جائے گا ، اگر نماز زیادہ ہو گی ، تو اس کے حوالے سے بلایا جائے گا ، اگر روزہ زیادہ ہو گا ، تو اس کے حوالے سے بلایا جائے گا ، اگر جہاد زیادہ ہو گا ، تو اس کے حوالے سے بلایا جائے گا ، پھر آدمی جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازے پر آئے گا ، جس کا نام ” ریان “ ہو گا ، اس میں سے روزہ داروں کو بلایا جائے گا ۔ “ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا وہاں کوئی ایسا فرد بھی ہو گا ؟ جسے دو عملوں کے حوالے سے بلایا جائے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! تم ( ایسے فرد ) ہو گے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب أهل الجنة / حدیث: 18653
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3474)»