عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا رَجُلٌ مُنْتَعِلٌ بِنَعْلَيْنِ مِنْ نَارٍ ، يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ مَعَ أَجْزَاءِ الْعَذَابِ ، وَمِنْهُمْ مِنَ النَّارِ إِلَى صَدْرِهِ مَعَ أَجْزَاءِ الْعَذَابِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ فِي النَّارِ إِلَى تَرْقُوَتِهِ مَعَ أَجْزَاءِ الْعَذَابِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ قَدِ انْغَمَسَ فِيهَا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اہل جہنم میں عذاب کے حوالے سے سب سے ہلکا عذاب اُس شخص کو ہو گا جس نے آگ کے جوتے پہنے ہوئے ہوں گے اور اُن کی وجہ سے اس کا دماغ کھول رہا ہو گا اور اس کے ہمراہ عذاب کے دیگر اجزاء بھی ہوں گے ، اُن میں سے کوئی ایسا شخص ہو گا جو سینے تک جہنم میں ہو گا اور اس کے ہمراہ عذاب کے اجزاء ہوں گے ، ان میں کوئی ایسا فرد ہو گا جو گردن تک جہنم میں ہو گا اور اس کے ہمراہ عذاب کے اجزاء ہوں گے اور کوئی ایسا شخص بھی ہو گا جو اُس میں ڈوبا ہوا ہو گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقِيلَ لَهُ : هَلْ نَفَعْتَ أَبَا طَالِبٍ بِشَيْءٍ ؟ قَالَ : " أَخْرَجْتُهُ مِنَ النَّارِ إِلَى ضِحْضَاحٍ مِنْهَا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا ، آپ سے دریافت کیا گیا : کیا آپ نے جناب ابوطالب کو کوئی فائدہ پہنچایا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں انہیں جہنم سے نکال کر اُس کے اوپری حصے تک لے آیا ہوں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَدْنَى أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا الَّذِي لَهُ نَعْلَانِ مِنْ نَارٍ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ يَزِيدَ بْنِ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اہل جہنم میں سب سے ہلکا عذاب اُس کو ہو گا جس نے آگ کے بنے ہوئے جوتے پہنے ہوں گے ، اور ان کی وجہ سے اس کا دماغ کھول رہا ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف یزید بن خالد بن موہب کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف یزید بن خالد بن موہب کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔