کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جہنم میں کافر کی جسامت کا بڑا ہونا
حدیث نمبر: 18605
عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يُعَظَّمُ أَهْلُ النَّارِ فِي النَّارِ ، حَتَّى إِنَّ بَيْنَ شَحْمَةِ أُذُنِ أَحَدِهِمْ إِلَى عَاتِقِهِ مَسِيرَةَ سَبْعِمِائَةِ عَامٍ ، وَإِنَّ عِظَمَ جِلْدِهِ سَبْعُونَ ذِرَاعًا ، وَإِنَّ جِلْدَهُ مِثْلُ أُحُدٍ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِي أَسَانِيدِهِمْ أَبُو يَحْيَى الْقَتَّاتُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَفِيهِ خِلَافٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ أَوْثَقُ مِنْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جہنم میں اہل جہنم اتنے بڑے ہوں گے کہ ان میں سے کسی ایک کے کان کی لو سے لے کر ، اُس کے گردن تک کے درمیان سات سو سال کی مسافت کا فاصلہ ہو گا اور اس کی جلد کا حجم ستر ذراع ہو گا اور اس کی جلد اُحد پہاڑ کی مانند ہو گی ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، ان کی اسانید میں ایک راوی ابویحیی قتات ہے اور وہ ضعیف ہے اور اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال اس سے زیادہ ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب صفة أهل النار / حدیث: 18605
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13482) اخرجه احمد فى المسند (4800)»
حدیث نمبر: 18606
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَقْعَدُ الْكَافِرِ فِي النَّارِ مَسِيرَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ، كُلُّ ضِرْسٍ مِثْلُ أُحُدٍ ، وَفَخِذُهُ مِثْلُ وَرِقَانَ ، وَجِلْدُهُ سِوَى لَحْمِهِ وَعِظَامِهِ أَرْبَعُونَ ذِرَاعًا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جہنم میں کافر کی سرین ، تین دن کی مسافت جتنی ہو گی اور اس کی ہر ایک داڑھ اُحد پہاڑ کی مانند ہو گی اور اس کا زانو ” ورقان “ نامی پہاڑ کی مانند ہو گا اور اس کے گوشت اور اس کی ہڈیوں کے علاوہ صرف اس کی جلد چالیس ذراع کی ہو گی ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب صفة أهل النار / حدیث: 18606
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (1387) اخرجه احمد فى المسند (29/3)»
حدیث نمبر: 18607
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ضِرْسُ الْكَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِثْلُ أُحُدٍ ، وَعَرْضُ جِلْدِهِ سَبْعُونَ ذِرَاعًا ، وَمَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ مِثْلُ مَا بَيْنِي وَبَيْنَ الرَّبَذَةِ " . قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " وَغِلَظُ جِلْدِهِ أَرْبَعُونَ ذِرَاعًا ، وَهُنَا سَبْعُونَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ رِبْعِيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن کافر کی داڑھ احد پہاڑ کی مانند ہو گی اور اس کی جلد کی چوڑائی ستر ذراع ہو گی اور اس کا زانو ورقان پہاڑ کی مانند ہو گا اور جہنم میں اس کا مقعد ( یعنی اس کی سرین یا اس کے بیٹھنے کی جگہ ) اتنی ہو گی ، جتنا یہاں سے لے کر ” ربذہ “ کے درمیان کا فاصلہ ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” اس کی جلد کی موٹائی چالیس ذراع ہو گی ۔ “ جبکہ یہاں یہ الفاظ ہیں : ” ستر ذراع ہو گی ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ربعی بن ابراہیم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب صفة أهل النار / حدیث: 18607
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (328/2)»
حدیث نمبر: 18608
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ التَّيْمِيِّ قَالَ : انْطَلَقْتُ أَنَا ، وَحُصَيْنُ بْنُ سَبْرَةَ ، وَعُمَرُ بْنُ مُسْلِمٍ ، إِلَى زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، وَحَدَّثَنَا فِي مَجْلِسِهِ ذَلِكَ ، قَالَ : إِنَّ الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ لَيُعَظَّمُ لِلنَّارِ حَتَّى يَكُونَ الضِّرْسُ مِنْ أَضْرَاسِهِ مِثْلَ أُحُدٍ . قُلْتُ رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوَيلٍ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
یزید بن حیان تمیمی بیان کرتے ہیں : میں ، حصین بن سبرہ اور عمر بن اسلم ، سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ، اس محفل کے دوران سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ہمیں یہ حدیث بیان کی : ” اہل جہنم میں سے کوئی شخص جہنم کے لیے اتنا بڑا ہو گا کہ اُس کی داڑھوں میں سے کوئی ایک داڑھ اُحد پہاڑ کی مانند ہو گی ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام أحمد نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب صفة أهل النار / حدیث: 18608
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (367/4)»
حدیث نمبر: 18609
وَعَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ : قَالَ ابْنُ الْعَبَّاسِ : أَتَدْرِي مَا سِعَةُ جَهَنَّمَ ؟ قُلْتُ : لَا قَالَ : أَجَلْ وَاللَّهِ مَا تَدْرِي أَنَّ بَيْنَ شَحْمَةِ أُذُنِهِمْ وَبَيْنَ عَاتِقِهِ مَسِيرَةَ سَبْعِينَ خَرِيفًا ، تَجْرِي مِنْهُ أَوْدِيَةُ الْقَيْحِ ، قُلْتَ : أَنْهَارًا ؟ قَالَ : بَلْ أَوْدِيَةً ، فَذَكَرَ الَحْدِيثَ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَنْبَسَةِ بْنِ سَعِيدٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
مجاہد بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو ؟ جہنم کی وسعت کتنی ہے ؟ میں نے جواب دیا : جی نہیں ! انہوں نے فرمایا : جی ہاں ! اللہ کی قسم ! تم یہ نہیں جانتے کہ اہل جہنم کے کانوں کی لو سے لے کر اس کی گردن کے درمیان کا فاصلہ ستر برس کا ہو گا اور اس میں پیپ اور خون کی وادیاں بہہ رہی ہوں گی ، میں نے کہا: کیا نہریں ؟ انہوں نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ وادیاں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عنبسہ بن سعید کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب صفة أهل النار / حدیث: 18609
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (116/6)»
حدیث نمبر: 18610
وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ : وَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " ضِرْسُ الْكَافِرِ مِثْلُ أُحُدٍ ، وَغِلَظُ جِلْدِهِ أَرْبَعُونَ ذِرَاعًا بِذِرَاعِ الْجَبَّارِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کافر کی داڑھ اُحد پہاڑ کی مانند ہو گی اور اس کی جلد کی موٹائی چالیس ذراع ہو گی ، جو جبار ( یعنی اللہ تعالیٰ ) کے ذراع کے حساب سے ہو گی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عباد بن منصور ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب صفة أهل النار / حدیث: 18610
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3496)»