کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: انبیاء کرام اور دیگر لوگوں میں سے کون شفاعت کرے گا ؟
حدیث نمبر: 18542
عَنْ عُثْمَانَ - يَعْنِي ابْنَ عَفَّانَ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَوَّلُ مَنْ يَشْفَعُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الشُّهَدَاءُ ، ثُمَّ الْمُؤَذِّنُونَ " . قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارِ الْمُؤَذِّنِينَ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأُمَوِيُّ ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت کے دن سب سے پہلے انبیاء کی ، پھر شہداء کی اور پھر مؤذنین کی شفاعت قبول ہو گی ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابن ماجہ نے ” مؤذنین “ کے تذکرے کے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ،
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عنبسہ بن عبدالرحمن اموی ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18542
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3471)»