کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ہمارے جد امجد حضرت آدم علیہ السلام کا شفاعت کرنا
حدیث نمبر: 18540
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يُشَفِّعُ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ جَمِيعِ ذُرِّيَّتِهِ فِي مِائَةِ أَلْفِ أَلْفٍ وَعَشَرَةِ آلَافِ أَلْفِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سیدنا آدم علیہ السلام کی شفاعت کو قبول کرے گا جو اُن کی ساری اولاد میں سے ایک سو ہزار ، ہزار اور دس ہزار ، ہزار لوگوں کے بارے میں ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید رقاشی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18540
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 18541
وَعَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ قَالَ : قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ فَقَالَ : أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا هُوَ فِي كِتَابِ اللَّهِ ؟ فَذَكَرَ قَوْمًا يَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ فَيَقُولُ آدَمُ : يَا رَبِّ، حَرَقَتْ بَنِيَّ فَيُخْرَجُونَ مِنْهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
خرشہ بن حر بیان کرتے ہیں : میں مدینہ منورہ آیا ، میری ملاقات سیدنا عبداللہ بن سلام رجی اللہ عنہ سے ہوئی ، انہوں نے فرمایا : کیا میں تمہیں ایسی حدیث بیان نہ کروں ؟ جس کا ذکر اللہ کی کتاب میں ہے ، پھر انہوں نے وہ حدیث بیان کی جس میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو جہنم سے نکلیں گے اور سیدنا آدم علیہ السلام کہیں گے : اے میرے پروردگار ! میرے بچے جل رہے ہیں ، تو انہیں وہاں سے نکال دیا جائے گا ( یعنی سیدنا آدم علیہ السلام کی اولاد کو جہنم سے نکال دیا جائے گا ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18541
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح