کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان ، جس پر اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے کپکپی طاری ہو جائے
حدیث نمبر: 18217
عَنِ الْعَبَّاسِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا اقْشَعَرَّ جِلْدُ الْعَبْدِ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ ; تَحَاتَّتْ عَنْهُ خَطَايَاهُ كَمَا تَحَاتُّ عَنِ الشَّجَرَةِ الْبَالِيَةِ وَرَقُهَا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ الْعَبَّاسِ وَلَمْ أَعْرِفْهَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے کسی بندے کی جلد پر کپکپی طاری ہوتی ہے تو اس کے گناہ یوں جھڑتے ہیں جیسے بوسیده درخت سے پتے جھڑتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک خاتون ام کلثوم بنت عباس ہیں اور میں اس خاتون سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک خاتون ام کلثوم بنت عباس ہیں اور میں اس خاتون سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 18218
وَعَنِ الْعَبَّاسِ أَيْضًا قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَحْتَ الشَّجَرَةِ ، فَهَاجَتِ الرِّيحُ ، فَوَقَعَ مَا كَانَ فِيهَا مِنْ وَرَقٍ نَخِرٍ ، وَبَقِيَ مَا كَانَ فِيهَا مِنْ وَرَقٍ أَخْضَرَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مَثَلُ هَذِهِ الشَّجَرَةِ ؟ " . قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " مَثَلُهَا مَثَلُ الْمُؤْمِنِ ، إِذَا اقْشَعَرَّ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ وَقَعَتْ عَنْهُ ذُنُوبُهُ ، وَبَقِيَتْ لَهُ حَسَنَاتُهُ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مِنْ رِوَايَةِ هَارُونَ بْنِ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنِ الْعَبَّاسِ ، وَلَمْ أَعْرِفْ هَارُونَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الرُّومِيِّ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک درخت کے نیچے موجود تھے ، ہوا چل پڑی ، اُس درخت کے خشک پتے گر گئے اور سبز پتے لگے رہ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس درخت کی مثال کیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس کی مثال مومن کی مانند ہے ، جب اس ( مومن ) پر اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے کپکپی طاری ہوتی ہے تو اس کے گناہ گر جاتے ہیں اور اس کی نیکیاں باقی رہ جاتی ہیں ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے ہارون بن ابوالجوزاء کی سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور میں ہارون سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ محمد بن عمر بن رومی نامی راوی میں ضعف پایا جاتا ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے ہارون بن ابوالجوزاء کی سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور میں ہارون سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ محمد بن عمر بن رومی نامی راوی میں ضعف پایا جاتا ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔