حدیث نمبر: 18098
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " طَلَبُ الْحَلَالِ فَرِيضَةٌ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ الثَّقَفِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” حلال تلاش کرنا فرض کے بعد فرض ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عباد بن کثیر ثقفی ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عباد بن کثیر ثقفی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 18099
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " طَلَبُ الْحَلَالِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” حلال تلاش کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 18100
وَعَنْ أُمِّ عَبْدِ اللَّهِ ، أُخْتِ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ : أَنَّهَا بَعَثَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِقَدَحِ لَبَنٍ عِنْدَ فِطْرِهِ وَهُوَ صَائِمٌ ، وَذَلِكَ فِي طُولِ النَّهَارِ ، وَشِدَّةِ الْحَرِّ ، فَرَدَّ إِلَيْهَا رَسُولَهَا : " أَنَّى لَكِ هَذَا اللَّبَنَ ؟ ! " . قَالَتْ : مِنْ شَاةٍ لِي ، قَالَ : فَرَدَّ إِلَيْهَا رَسُولَهَا : " أَنَّى كَانَتْ لَكِ هَذِهِ الشَّاةُ ؟ " . قَالَتِ : اشْتَرَيْتُهَا مِنْ مَالِي ، فَأَخَذَهُ مِنْهَا ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَتْهُ فَقَالَتْ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَعَثْتُ لَكَ بِاللَّبَنِ مَرْثِيَةً لَكَ مِنْ طُولِ النَّهَارِ ، وَشِدَّةِ الْحَرِّ ، فَرَدَدْتَ الرَّسُولَ فِيهِ ، فَقَالَ لَهَا : " بِذَلِكَ أُمِرَتِ الرُّسُلُ ، أَلَّا تَأْكُلَ إِلَّا طَيِّبًا ، وَلَا تَعْمَلَ إِلَّا صَالِحًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیده ام عبداللہ رضی اللہ عنہا ، جو سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں ، انہوں نے دودھ کا ایک پیالہ افطاری کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا ، وہ ایک طویل اور شدید گرم دن تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کے قاصد کو اس کی طرف واپس بھیجا اور دریافت کیا : تمہارے پاس یہ دودھ کہاں سے آیا ہے ؟ اس خاتون نے بتایا : یہ میری بکری کا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قاصد اس خاتون کی طرف واپس بھیجا اور فرمایا : تمہارے پاس یہ بکری کہاں سے آئی ؟ اس خاتون نے بتایا : یہ میں نے اپنے مال کے ذریعے خریدی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دودھ قبول کر لیا ، اگلے دن وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، سیدہ ام عبداللہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آپ کی خدمت میں دودھ بھیجا تھا کیونکہ دن طویل تھا اور شدید گرم تھا اور آپ نے میرے بھیجے ہوئے فرد کو واپس کر دیا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے فرمایا : ” رسولوں کو اسی بات کا حکم دیا گیا ہے کہ وہ صرف پاکیزہ چیز کھائیں اور صرف نیک عمل کریں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔