کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان ، جو اولیاء اللہ کو اذیت پہنچائے
حدیث نمبر: 17949
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قَالَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - : مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدِ اسْتَحَلَّ مُحَارَبَتِي " . قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَاللَّفْظُ لَهُ ، وَأَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ قَيْسٍ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُمْ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ فِي الْأَوْسَطِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَيْخِهِ : هَارُونَ بْنِ كَامِلٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : جو شخص میرے کسی ولی کے ساتھ دشمنی رکھتا ہے وہ میرے ساتھ جنگ کو حلال قرار دے دیتا ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے روایت کے الفاظ ان کی نقل کردہ ہیں ، اسے امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کیا ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالواحد بن قیس ہے جسے ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر لوگوں نے اسے ضعیف کہا: ہے امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں اور معجم اوسط میں امام طبرانی کے رجال بھی ایسے ہیں ، صرف ان کے استاد ہارون بن کامل کا معاملہ مختلف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17949
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3627 و 3648)»
حدیث نمبر: 17950
وَعَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : مَنْ آذَى لِي وَلِيًّا فَقَدِ اسْتَحَلَّ مُحَارَبَتِي ، وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِمِثْلِ أَدَاءِ فَرِيضَتِي ، وَإِنَّهُ لَيَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ ، فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ رِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا ، وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا ، وَلِسَانَهُ الَّذِي يَنْطِقُ بِهِ ، وَقَلْبَهُ الَّذِي يَعْقِلُ بِهِ ، وَإِنْ سَأَلَنِي أَعْطَيْتُهُ ، وَإِنْ دَعَانِي أَجَبْتُهُ ، وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهُ كَتَرَدُّدِي عَنْ مَوْتِهِ ، وَذَلِكَ أَنَّهُ يَكْرَهُ الْمَوْتَ وَأَنَا أَكْرَهُ مَسَاءَتَهُ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : جو شخص میرے ولی کو اذیت پہنچاتا ہے وہ میرے ساتھ جنگ کو حلال قرار دے دیتا ہے اور میرا بندہ کسی ایسی چیز کے ذریعے میرا قرب حاصل نہیں کرتا ، جو میرے مقرر کردہ فرض کی ادائیگی جیسی ہوا اور بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کے پاؤں بن جاتا ہوں ، جن سے وہ چلتا ہے ، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں ، جس کے ذریعے وہ پکڑتا ہے ، اس کی زبان بن جاتا ہوں ، جس کے ذریعے وہ گفتگو کرتا ہے ، اس کا دل بن جاتا ہوں جس کے ذریعے وہ سمجھتا ہے ، اگر وہ مجھ سے مانگے تو میں اسے عطا کرتا ہوں ، اگر وہ مجھ سے دعا مانگے تو میں وہ قبول کرتا ہوں ، مجھے کسی بھی کام کو کرنے کے بارے میں اتنا تردد نہیں ہوتا ، جتنا مجھے اپنے بندے کی موت کے حوالے سے تردد ہوتا ہے ، وہ موت کو ناپسند کرتا ہے اور جو چیز اسے بری لگے ، میں بھی اسے ناپسند کرتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17950
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ موضوع
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (7087)»
حدیث نمبر: 17951
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - عَنِ اللَّهِ تَعَالَى قَالَ : " مَنْ أَهَانَ لِي وَلِيًّا فَقَدْ بَارَزَنِي بِالْمُحَارَبَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ : أَبُو حَفْصٍ الدِّمَشْقِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص میرے ولی کی توہین کرتا ہے وہ مجھے جنگ کی دعوت دیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن سعید ابوحفص دمشقی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17951
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (613)»
حدیث نمبر: 17952
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَقُولُ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - : مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ نَاصَبَنِي بِالْمُحَارَبَةِ " . قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : جو شخص میرے ولی سے دشمنی رکھتا ہے وہ میرے ساتھ جنگ کرتا ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17952
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12719)»