حدیث نمبر: 17939
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ لِلَّهِ عِبَادًا يَعْرِفُونَ النَّاسَ بِالتَّوَسُّمِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے ہیں ، جو لوگوں کو ان کے چہروں سے پہچان لیتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 17940
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " اتَّقُوا فِرَاسَةَ الْمُؤْمِنِ ; فَإِنَّهُ يَنْظُرُ بِنُورِ اللَّهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مومن کی فراست سے بچ کے رہو ! کیونکہ وہ اللہ کے نور کی مدد سے دیکھتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 17941
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : أَفَرَسُ النَّاسِ ثَلَاثَةٌ : صَاحِبَةُ مُوسَى الَّتِي قَالَتْ : ( يَاأَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ ) ، [ قَالَ : وَمَا رَأَيْتِ مِنْ قُوَّتِهِ ؟ قَالَتْ : جَاءَ إِلَى الْبِئْرِ وَعَلَيْهِ صَخْرَةٌ لَا يُقِلُّهَا كَذَا وَكَذَا ، فَرَفَعَهَا ] قَالَ : وَمَا رَأَيْتِ مِنْ أَمَانَتِهِ ؟ قَالَتْ : كُنْتُ أَمْشِي أَمَامَهُ فَجَعَلَنِي خَلْفَهُ . وَصَاحِبُ يُوسُفَ حِينَ قَالَ : ( أَكْرِمِي مَثْوَاهُ عَسَى أَنْ يَنْفَعَنَا أَوْ نَتَّخِذَهُ وَلَدًا ) . وَأَبُو بَكْرٍ حِينَ اسْتَخْلَفَ عُمَرَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” سب سے زیادہ فراست کے مالک افراد تین ہیں : سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ والی خاتون ، جس نے یہ کہا: تھا : ( جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں ہے : ) ” اے ابا جان ! آپ انہیں ملازم رکھ لیں کیونکہ یہ اچھے ملازم ہوں گے ، یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی ۔ “ سیدنا شعیب علیہ السلام نے دریافت کیا : تمہیں کیسے پتہ چلا کہ یہ طاقتور ہے ؟ اس خاتون نے بتایا : یہ کنویں کے پاس آئے اس پر ایک بھاری پتھر رکھا ہوا تھا ، جسے اتنے اتنے لوگ مل کے ہلا سکتے تھے ، لیکن انہوں نے اس کو اٹھا لیا ، سیدنا شعیب علیہ السلام نے دریافت کیا : اور اس کے امین ہونے کا تمہیں کیسے پتا چلا ؟ اس خاتون نے بتایا : میں ان کے آگے چلتی ہوئی جا رہی تھی ، تو انہوں نے مجھے اپنے پیچھے کر لیا ۔ ( سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : دوسرا سب سے زیادہ فراست والا فرد ) سیدنا یوسف علیہ السلام کے واقعہ والا فرد ہے جس نے یہ کہا: تھا : ( جس کے الفاظ قرآن نے ان الفاظ میں نقل کئے ہیں : ) ” تم اس کا دھیان رکھو ! ہو سکتا ہے یہ ہمیں نفع پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنا لیں ۔ “ ( سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تیسرا سب سے زیادہ فراست والا فرد ) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں ، جنہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اپنا جانشین مقرر کیا ۔ “
حدیث نمبر: 17942
وَفِي رِوَايَةٍ : مِنْ أَفْرَسِ النَّاسِ ثَلَاثَةٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ إِنْ كَانَ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ هُوَ الْعَبْدِيَّ ، وَإِنْ كَانَ هُوَ الثَّقَفِيَّ ، فَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفٍ كَثِيرٍ فِيهِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” لوگوں میں سب سے زیادہ فراست والے افراد تین ہیں ، ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں اگر محمد بن کثیر سے مراد عبدی ہو اگر وہ ثقفی ہو ، تو پھر اس میں موجود بہت زیادہ ضعف کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں اگر محمد بن کثیر سے مراد عبدی ہو اگر وہ ثقفی ہو ، تو پھر اس میں موجود بہت زیادہ ضعف کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 17943
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ قَالَ : قِيلَ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ : صِفْ لَنَا أَهْلَ الْأَمْصَارِ ، قَالَ : أَهْلُ الْحِجَازِ أَحْرَصُ النَّاسِ عَلَى فِتْنَةٍ ، وَأَعْجَزُهُمْ عَنْهَا ، وَأَهْلُ الْعِرَاقِ أَحْرَصُهُ عَلَى عِلْمٍ ، وَأَبْعَدُهُ مِنْهُ ، وَأَهْلُ الشَّامِ أَطْوَعُ النَّاسِ لِلْمَخْلُوقِ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ ، وَأَهْلُ مِصْرَ أَكْيَسُ النَّاسِ صَغِيرًا ، وَأَحْمَقُهُ كَبِيرًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو أُمَيَّةَ بْنُ يَعْلَى ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
علی بن زید بیان کرتے ہیں : سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے کہا: گیا : آپ مختلف علاقوں کے لوگوں کے بارے میں ہمارے سامنے تبصرہ کریں ، تو انہوں نے فرمایا : ” حجاز کے لوگ فتنہ کے بارے میں سب سے زیادہ حریص ہیں اور اس کے حوالے سے سب سے زیادہ عاجز ہیں ۔ عراق کے لوگ علم کے بارے میں سب سے زیادہ حریص ہیں اور اس سے سب سے زیادہ دور ہیں ۔ شام کے لوگ خالق کی نافرمانی میں ، مخلوق کے سب سے زیادہ فرمانبردار ہیں ۔ مصر کے لوگ ، جب چھوٹے ہوں تو سب سے زیادہ سمجھدار ہوتے ہیں اور جب بڑے ہوں ، تو سب سے زیادہ احمق ہوتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوامیہ بن یعلی ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوامیہ بن یعلی ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔