عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ صَاحِبَ الشِّمَالِ لَيَرْفَعُ الْقَلَمَ سِتَّ سَاعَاتٍ عَنِ الْعَبْدِ الْمُسْلِمِ الْمُخْطِئِ ، أَوِ الْمُسِيءِ ; فَإِنْ نَدِمَ وَاسْتَغْفَرَ اللَّهَ مِنْهَا أَلْقَاهَا ، وَإِلَّا كُتِبَتْ وَاحِدَةً " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا وُثِّقُوا .
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بائیں طرف والا فرشتہ خطاکار ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) برائی کرنے والے ، مسلمان بندے سے قلم کو چھ گھڑیوں تک اٹھائے رکھتا ہے ( یعنی وہ چھ گھڑیوں تک اس کی برائی نوٹ نہیں کرتا ) اگر وہ بندہ ندامت کا شکار ہو ، اور اللہ تعالیٰ سے اس گناہ کے حوالے سے مغفرت مانگ لے تو وہ اس گناہ کو نوٹ نہیں کرتا ، ورنہ وہ اسے ایک گناہ کے طور پر نوٹ کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَاحِبُ الْيَمِينِ أَمِينٌ عَلَى صَاحِبِ الشِّمَالِ ، فَإِذَا عَمِلَ الْعَبْدُ حَسَنَةً كَتَبَهَا بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا ، وَإِنْ عَمِلَ سَيِّئَةً فَأَرَادَ صَاحِبُ الشِّمَالِ أَنْ يَكْتُبَهَا قَالَ لَهُ صَاحِبُ الْيَمِينِ : أَمْسِكْ عَنْهَا ، فَيُمْسِكُ عَنْهَا ; فَإِنِ اسْتَغْفَرَ لَمْ تُكْتَبْ ، وَإِنْ سَكَتَ كُتِبَتْ عَلَيْهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، وَهُوَ كَذَّابٌ ، وَلَكِنَّهُ مُوَافِقٌ لِمَا قَبْلَهُ ، وَلَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ زَائِدٌ غَيْرَ أَنَّ الْحَسَنَةَ يَكْتُبُهَا بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا ، وَقَدْ دَلَّ الْقُرْآنُ وَالسُّنَّةُ عَلَى ذَلِكَ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” دائیں طرف والا فرشتہ بائیں طرف والے فرشتے پر امین ہوتا ہے ، جب بندہ کوئی نیکی کرتا ہے تو دائیں طرف والا فرشتہ اسے دس گنا ( نیکیوں ) کے طور پر نوٹ کرتا ہے ، اور اگر بندہ کسی برائی کا ارتکاب کرے ، اور بائیں طرف والا فرشتہ اسے نوٹ کرنے لگے ، تو دائیں طرف والا فرشتہ اس سے یہ کہتا ہے : تم اس کو نوٹ کرنے سے رک جاؤ ، تو وہ ( بائیں طرف والا فرشتہ ) اس برائی کے حوالے سے رُک جاتا ہے ، اگر بندہ مغفرت طلب کر لے ، تو اس برائی کو نوٹ نہیں کیا جاتا ، اور اگر بندہ خاموش رہے ( یعنی مغفرت طلب نہ کرے ) تو اس کے خلاف ( اس برائی کو ایک برائی کے طور پر ) نوٹ کیا جاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن زبیر ہے ، اور وہ کذاب ہے ، لیکن
یہ روایت اس سے پہلے والی روایت کے موافق ہے ، اور اس میں کوئی بھی چیز اضافی نہیں ہے ، صرف یہ بات اضافی ہے کہ نیکی کو دس گنا نوٹ کیا جاتا ہے ، اور قرآن و سنت اس بات پر دلالت کرتے ہیں ( کہ ایسا ہوتا ہے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن زبیر ہے ، اور وہ کذاب ہے ، لیکن
یہ روایت اس سے پہلے والی روایت کے موافق ہے ، اور اس میں کوئی بھی چیز اضافی نہیں ہے ، صرف یہ بات اضافی ہے کہ نیکی کو دس گنا نوٹ کیا جاتا ہے ، اور قرآن و سنت اس بات پر دلالت کرتے ہیں ( کہ ایسا ہوتا ہے ) ۔
وَعَنْ أُمِّ عِصْمَةَ الْعَوْصِيَّةِ - امْرَأَةٍ مِنْ قَيْسٍ - قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْ عَبْدٍ يَعْمَلُ ذَنْبًا إِلَّا وَقَفَ الْمَلَكُ الْمُوَكَّلُ بِإِحْصَاءِ ذُنُوبِهِ ثَلَاثَ سَاعَاتٍ ، فَإِنِ اسْتَغْفَرَ اللَّهَ مِنْ ذَنْبِهِ ذَلِكَ فِي شَيْءٍ مِنْ تِلْكَ السَّاعَاتِ لَمْ يُوقَفْ عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو مَهْدِيٍّ سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ .
محمد محی الدین
سیده ام عصمہ عوصیہ ، جن کا تعلق قیس قبیلے سے ہے ، وہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب بندہ کسی گناہ کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کے لئے مامور فرشتہ اس گناہ کو نوٹ کرنے سے تین گھڑیوں تک رکا رہتا ہے ، اگر وہ بندہ ان گھڑیوں کے دوران اللہ تعالیٰ سے اس گناہ کی مغفرت طلب کر لے تو قیامت کے دن وہ گناہ اس کے ذمہ عائد نہیں کیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومہدی سعید بن سنان ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومہدی سعید بن سنان ہے اور وہ متروک ہے ۔