کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: مغفرت طلب کرنے میں جلدی کرنا
حدیث نمبر: 17576
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ صَاحِبَ الشِّمَالِ لَيَرْفَعُ الْقَلَمَ سِتَّ سَاعَاتٍ عَنِ الْعَبْدِ الْمُسْلِمِ الْمُخْطِئِ ، أَوِ الْمُسِيءِ ; فَإِنْ نَدِمَ وَاسْتَغْفَرَ اللَّهَ مِنْهَا أَلْقَاهَا ، وَإِلَّا كُتِبَتْ وَاحِدَةً " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بائیں طرف والا فرشتہ خطاکار ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) برائی کرنے والے ، مسلمان بندے سے قلم کو چھ پہر تک اٹھائے رکھتا ہے ( یعنی وہ چھ پہر تک اس کی برائی نوٹ نہیں کرتا ) اگر وہ بندہ ندامت کا شکار ہو ، اور اللہ تعالیٰ سے اس گناہ کے حوالے سے مغفرت مانگ لے تو وہ اس گناہ کو نوٹ نہیں کرتا ، ورنہ وہ اسے ایک گناہ کے طور پر نوٹ کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17576
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7765)»
حدیث نمبر: 17577
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَاحِبُ الْيَمِينِ أَمِينٌ عَلَى صَاحِبِ الشِّمَالِ ، فَإِذَا عَمِلَ الْعَبْدُ حَسَنَةً كَتَبَهَا بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا ، وَإِنْ عَمِلَ سَيِّئَةً فَأَرَادَ صَاحِبُ الشِّمَالِ أَنْ يَكْتُبَهَا قَالَ لَهُ صَاحِبُ الْيَمِينِ : أَمْسِكْ عَنْهَا ، فَيُمْسِكُ عَنْهَا ; فَإِنِ اسْتَغْفَرَ لَمْ تُكْتَبْ ، وَإِنْ سَكَتَ كُتِبَتْ عَلَيْهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، وَهُوَ كَذَّابٌ ، وَلَكِنَّهُ مُوَافِقٌ لِمَا قَبْلَهُ ، وَلَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ زَائِدٌ غَيْرَ أَنَّ الْحَسَنَةَ يَكْتُبُهَا بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا ، وَقَدْ دَلَّ الْقُرْآنُ وَالسُّنَّةُ عَلَى ذَلِكَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” دائیں طرف والا فرشتہ بائیں طرف والے فرشتے پر امین ہوتا ہے ، جب بندہ کوئی نیکی کرتا ہے تو دائیں طرف والا فرشتہ اسے دس گنا ( نیکیوں ) کے طور پر نوٹ کرتا ہے ، اور اگر بندہ کسی برائی کا ارتکاب کرے ، اور بائیں طرف والا فرشتہ اسے نوٹ کرنے لگے ، تو دائیں طرف والا فرشتہ اس سے یہ کہتا ہے : تم اس کو نوٹ کرنے سے رک جاؤ ، تو وہ ( بائیں طرف والا فرشتہ ) اس برائی کے حوالے سے رُک جاتا ہے ، اگر بندہ مغفرت طلب کر لے ، تو اس برائی کو نوٹ نہیں کیا جاتا ، اور اگر بندہ خاموش رہے ( یعنی مغفرت طلب نہ کرے ) تو اس کے خلاف ( اس برائی کو ایک برائی کے طور پر ) نوٹ کیا جاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن زبیر ہے ، اور وہ کذاب ہے ، لیکن
یہ روایت اس سے پہلے والی روایت کے موافق ہے ، اور اس میں کوئی بھی چیز اضافی نہیں ہے ، صرف یہ بات اضافی ہے کہ نیکی کو دس گنا نوٹ کیا جاتا ہے ، اور قرآن و سنت اس بات پر دلالت کرتے ہیں ( کہ ایسا ہوتا ہے ) ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17577
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7971)»
حدیث نمبر: 17578
وَعَنْ أُمِّ عِصْمَةَ الْعَوْصِيَّةِ - امْرَأَةٍ مِنْ قَيْسٍ - قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْ عَبْدٍ يَعْمَلُ ذَنْبًا إِلَّا وَقَفَ الْمَلَكُ الْمُوَكَّلُ بِإِحْصَاءِ ذُنُوبِهِ ثَلَاثَ سَاعَاتٍ ، فَإِنِ اسْتَغْفَرَ اللَّهَ مِنْ ذَنْبِهِ ذَلِكَ فِي شَيْءٍ مِنْ تِلْكَ السَّاعَاتِ لَمْ يُوقَفْ عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو مَهْدِيٍّ سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیده ام عصمہ عوصیہ ، جن کا تعلق قیس قبیلے سے ہے ، وہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب بندہ کسی گناہ کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کے لئے مامور فرشتہ اس گناہ کو نوٹ کرنے سے تین پہر تک رکا رہتا ہے ، اگر وہ بندہ ان گھڑیوں ( یعنی تین پہر ) کے دوران اللہ تعالیٰ سے اس گناہ کی مغفرت طلب کر لے تو قیامت کے دن وہ گناہ اس کے ذمہ عائد نہیں کیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومہدی سعید بن سنان ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17578
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً