حدیث نمبر: 17448
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَةَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ وَرَحْمَتِكَ ; فَإِنَّهُمَا بِيَدِكَ لَا يَمْلِكُهُمَا سِوَاكَ ، فَإِنَّكَ تَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ ، وَتَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ ، اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَذَا الْأَمْرُ الَّذِي تُرِيدُهُ لِي خَيْرًا لِي فِي دِينِي وَفِي دُنْيَايَ - أَحْسَبُهُ قَالَ : وَعَاقِبَةِ أَمْرِي فَوَفِّقْهُ وَسَهِّلْهُ ، وَإِنْ كَانَ غَيْرُ ذَلِكَ خَيْرًا فَوَفِّقْنِي لِلْخَيْرِ - أَحْسَبُهُ قَالَ - حَيْثُ كَانَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِأَسَانِيدَ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَأَكْثَرُ أَسَانِيدِ الْبَزَّارِ حَسَنَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں استخارہ کی تعلیم دیتے تھے ( جس کی دعا کے کلمات یہ ہیں : )
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ وَرَحْمَتِكَ ; فَإِنَّهُمَا بِيَدِكَ لَا يَمْلِكُهُمَا سِوَاكَ ، فَإِنَّكَ تَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ ، وَتَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ ، اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَذَا الْأَمْرُ الَّذِي تُرِيدُهُ لِي خَيْرًا لِي فِي دِينِي وَفِي دُنْيَايَ - أَحْسَبُهُ قَالَ : وَعَاقِبَةِ أَمْرِي فَوَفِّقْهُ وَسَهِّلْهُ ، وَإِنْ كَانَ غَيْرُ ذَلِكَ خَيْرًا فَوَفِّقْنِي لِلْخَيْرِ - أَحْسَبُهُ قَالَ - حَيْثُ كَانَ»
” اے اللہ ! میں تیرے علم کے مطابق تجھ سے بھلائی مانگتا ہوں ، اور تیری قدرت کی مدد سے تجھ سے قدرت ( یعنی صلاحیت ) مانگتا ہوں ، اور میں تجھ سے تیرا فضل اور تیری رحمت مانگتا ہوں ، کیونکہ یہ دونوں تیرے ہاتھ میں ہیں ، تیرے علاوہ اور کوئی ان دونوں کا مالک نہیں ہے ، بیشک تو علم رکھتا ہے اور میں علم نہیں رکھتا ہوں ، تو قدرت رکھتا ہے اور میں قدرت نہیں رکھتا ہوں ، تو غیب کا بہت زیادہ علم رکھتا ہے ، اے اللہ ! یہ معاملہ جیسے تو میرے لئے چاہتا ہے اگر یہ میرے حق میں ، میرے دین اور میری دنیا میں بہتر ہے ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ بھی ہیں : ) میرے انجام کے اعتبار سے بہتر ہے ، تو اس کی توفیق دیدے اور اسے آسان کر دے اور اگر بھلائی اس کے علاوہ میں ہے ، تو مجھے بھلائی کی توفیق عطا فرما ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ بھی ہیں : ) خواہ وہ جہاں کہیں بھی ہو ۔ “
یہ روایت امام بزار نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، امام بزار کی زیادہ تر اسانید حسن ہیں ۔
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ وَرَحْمَتِكَ ; فَإِنَّهُمَا بِيَدِكَ لَا يَمْلِكُهُمَا سِوَاكَ ، فَإِنَّكَ تَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ ، وَتَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ ، اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَذَا الْأَمْرُ الَّذِي تُرِيدُهُ لِي خَيْرًا لِي فِي دِينِي وَفِي دُنْيَايَ - أَحْسَبُهُ قَالَ : وَعَاقِبَةِ أَمْرِي فَوَفِّقْهُ وَسَهِّلْهُ ، وَإِنْ كَانَ غَيْرُ ذَلِكَ خَيْرًا فَوَفِّقْنِي لِلْخَيْرِ - أَحْسَبُهُ قَالَ - حَيْثُ كَانَ»
” اے اللہ ! میں تیرے علم کے مطابق تجھ سے بھلائی مانگتا ہوں ، اور تیری قدرت کی مدد سے تجھ سے قدرت ( یعنی صلاحیت ) مانگتا ہوں ، اور میں تجھ سے تیرا فضل اور تیری رحمت مانگتا ہوں ، کیونکہ یہ دونوں تیرے ہاتھ میں ہیں ، تیرے علاوہ اور کوئی ان دونوں کا مالک نہیں ہے ، بیشک تو علم رکھتا ہے اور میں علم نہیں رکھتا ہوں ، تو قدرت رکھتا ہے اور میں قدرت نہیں رکھتا ہوں ، تو غیب کا بہت زیادہ علم رکھتا ہے ، اے اللہ ! یہ معاملہ جیسے تو میرے لئے چاہتا ہے اگر یہ میرے حق میں ، میرے دین اور میری دنیا میں بہتر ہے ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ بھی ہیں : ) میرے انجام کے اعتبار سے بہتر ہے ، تو اس کی توفیق دیدے اور اسے آسان کر دے اور اگر بھلائی اس کے علاوہ میں ہے ، تو مجھے بھلائی کی توفیق عطا فرما ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ بھی ہیں : ) خواہ وہ جہاں کہیں بھی ہو ۔ “
یہ روایت امام بزار نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، امام بزار کی زیادہ تر اسانید حسن ہیں ۔