حدیث نمبر: 16793
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " ذَاكِرُ اللَّهِ - تَعَالَى - فِي الْغَافِلِينَ بِمَنْزِلَةِ الصَّابِرِ فِي الْفَارِّينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ الْأَوْسَطِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” غافل لوگوں کے درمیان اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والا شخص ( جنگ کے دوران ) فرار ہونے والے لوگوں کے درمیان صبر کرنے والے ( یعنی ثابت قدم رہنے والے ) کی مانند ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ، معجم اوسط کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ، معجم اوسط کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 16794
وَعَنْ عِصْمَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَى اللَّهِ - جَلَّ وَعَزَّ - سُبْحَةُ الْحَدِيثِ ، وَأَبْغَضُ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ - سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى - التَّجْدِيفُ " . قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا سُبْحَةُ الْحَدِيثِ ؟ قَالَ : " يَكُونُ الْقَوْمُ يَتَحَدَّثُونَ وَالرَّجُلُ يُسَبِّحُ " . قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا التَّجْدِيفُ ؟ قَالَ : " الْقَوْمُ يَكُونُونَ بِخَيْرٍ ، فَيَسْأَلُهُمُ الْجَارُ وَالصَّاحِبُ فَيَقُولُونَ : نَحْنُ بِشَرٍّ [ يَشْكُونَ ] " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل ” سبحۃ الحدیث “ ہے ، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ عمل ” تجدیف “ ہے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ” سبحۃ الحدیث “ سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ کہ کچھ لوگ بات چیت کر رہے ہوں اور ایک شخص تسبیح پڑھ رہا ہو ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ” تجدیف “ سے مراد کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : کچھ لوگ جو بھلائی پر ہوں ( یعنی خوشحال ہوں ) اور اُن کا پڑوسی ، یا ان کا ساتھی اُن سے کچھ مانگے ، اور وہ لوگ کہیں : کہ ہمارا تو حال برا ہے ، اور وہ لوگ شکایت کریں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔