کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: حضرت یاسر رضی اللہ عنہ اور ان کے صاحبزادے مسرع جہنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 16162
عَنْ يَاسِرِ بْنِ سُوَيْدٍ الْجُهَنِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجَّهَهُ فِي خَيْلٍ أَوْ سَرِيَّةٍ وَامْرَأَتُهُ حَامِلٌ ، فَوَلَدَتْ لَهُ مَوْلُودًا ، فَحَمَلَتْهُ أُمُّهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ وُلِدَ هَذَا الْمَوْلُودُ وَأَبَوْهُ فِي الْخَيْلِ فَسَمِّهِ ، فَأَخَذَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَّ يَدَهُ عَلَيْهِ ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ كَثِّرْ رِجَالَهُمْ ، وَأَقِلَّ آيَامَاهُمْ ، وَلَا تُحْوِجْهُمْ ، وَلَا تُرِ أَحْدَاثَهُمْ خَصَاصَةً " . فَقَالَ : " سَمِّهِ مُسْرِعًا ؛ فَقَدْ أَسْرَعَ فِي الْإِسْلَامِ ، فَهُوَ مُسْرِعُ بْنُ يَاسِرٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا یاسر بن سوید جہنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک جنگی مہم پر بھیجا ، ان کی بیوی حاملہ تھی ، انہوں نے بچے کو جنم دیا ، اس بچے کی ماں انہیں اٹھا کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور بولی: یا رسول اللہ ! یہ بچہ پیدا ہوا ہے ، اس کے والد جنگ پر گئے ہوئے ہیں ، آپ اس کا نام تجویز کر دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کو لیا ، آپ نے اپنے دست مبارک کو اس پر پھیرا اور فرمایا : اے اللہ ! ان کے مردوں کو بکثرت کر دے اور ان کی پریشانیوں کو کم کر دے اور انہیں حاجت کا شکار نہ کرنا ، اور تو ان کے بچوں کو بھوک نہ دکھانا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس بچے کا نام ” مسرع“ رکھو ، کیونکہ یہ اسلام کی طرف جلدی سے آیا ہے ، تو یہ مسرع بن یاسر ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں راویوں کی ایسی جماعت ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں راویوں کی ایسی جماعت ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔