کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت قرہ مزنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 16131
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ الْمُزَنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : مَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى رَأْسِي . . ¤
محمد محی الدین
معاویہ بن قرہ مزنی اپنے والد ( سیدنا قرہ مزنی رضی اللہ عنہ ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16131
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (19/4)»
حدیث نمبر: 16132
وَفِي رِوَايَةٍ : سَمِعْتُ أَبِي وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَسَحَ رَأَسَهُ ، وَاسْتَغْفَرَ لَهُ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : راوی کہتے ہیں : میں نے اپنے والد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا تھا اور ان کے لئے دعائے مغفرت کی تھی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16132
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (19/4)»
حدیث نمبر: 16133
وَفِي رِوَايَةٍ : قُلْنَا : أَصَحِبَهُ ؟ قَالَ : لَا ، وَلَكِنَّهُ قَدْ كَانَ عَلَى عَهْدِهِ قَدْ حَلَبَ وَصَرَّ . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ ، وَالْبَزَّارُ بِبَعْضِهِ ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ أَحْمَدَ وَالْبَزَّارِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ہم نے دریافت کیا : کیا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے ؟ تو انہوں نے ( یعنی معاویہ بن قرہ نے ) جواب دیا : جی نہیں ! وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھے اور ( ان کی عمر اتنی تھی ) کہ دودھ دوہ لیتے تھے اور جانور باندھ لیتے تھے ۔
یہ تمام روایات امام أحمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہیں ، امام بزار نے ان میں سے کچھ روایات نقل کی ہیں ، امام أحمد کی اسانید میں سے ایک کے اور امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف معاویہ بن قرہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16133
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2749) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (27/19) اخرجه احمد فى المسند (19/4)»