کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 16029
عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ : عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ مِنْ بَنِي غَاضِرَةَ مِنْ خُزَاعَةَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
ابوعبید بیان کرتے ہیں : سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کا تعلق بنو خزاعہ کی شاخ بنو غاضرہ سے تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 16030
وَعَنِ الْوَاقِدِيِّ قَالَ : قَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ خَلَفِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَبْدِ نُهْمِ بْنِ حُذَافَةَ بْنِ حُمَمَةَ بْنِ غَاضِرَةَ بْنِ حَبَشِيَّةَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عَمْرِو بْنِ خُزَاعَةَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
واقدی بیان کرتے ہیں : یہ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ بن حصین بن عبید بن خلف بن عبید بن عبدنہم بن حذافہ بن حممہ بن غاضره بن حبشیہ بن کعب بن عمرو بن خزاعہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 16031
قَالَ الطَّبَرَانِيُّ : ثِنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ قَالَ : وَيُكَنَّى عِمْرَانُ : أَبَا نُجَيْدٍ ، أَسْلَمَ قَدِيمًا هُوَ وَأَبُوهُ ، وَغَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَزَوَاتٍ . وَلَمْ يَزَلْ فِي بِلَادِ قَوْمِهِ وَيَنْزِلُ إِلَى الْمَدِينَةِ كَثِيرًا ، إِلَى أَنْ قُبِضَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَحَوَّلَ إِلَى الْبَصْرَةِ فَنَزَلَهَا إِلَى أَنْ مَاتَ بِهَا ، وَلَهُ بَقِيَّةٌ مِنْ وَلَدٍ . ¤ وَخَالِدُ بْنُ طُلَيْقِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَلِيَ قَضَاءَ الْبَصْرَةِ . ¤ وَيُقَالُ : إِنَّ حُصَيْنًا مَاتَ مُسْلِمًا ، وَقَدْ وَرَدَ أَنَّهُ مَاتَ مُشْرِكًا ، وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ أَسْلَمَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : عبیداللہ بن محمد نے ہمیں یہ بات بیان کی ہے : سیدنا عمران رضی اللہ عنہ کی کنیت ” ابونجیح “ تھی ، وہ بہت پہلے اسلام قبول کر چکے تھے ، ان کے والد نے بھی اسلام قبول کیا تھا ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کئی غزوات میں حصہ لیا ہے ، یہ مسلسل اپنے علاقے میں رہائش پذیر رہے اور مدینہ منورہ بہت زیادہ آ کر ٹھہرتے تھے ، یہاں تک کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا تو یہ بصرہ آ کر ٹھہر گئے اور انتقال کرنے تک یہ وہیں مقیم رہے ، اور وہیں اُن کا انتقال ہوا ، ان کی اولاد بھی ہوئی تھی ۔ ان کی اولاد میں سے خالد بن طلیق بن محمد بن عمران بن حصین ، بصرہ کے قاضی بھی بنے تھے ۔ ایک قول کے مطابق ، ان کے والد سیدنا حصین رضی اللہ عنہ کا مسلمان ہونے کے عالم میں انتقال ہوا تھا ، اور یہ بات بھی منقول ہے کہ وہ مشرک ہونے کے عالم میں فوت ہوئے تھے ، تاہم زیادہ مستند روایت یہ ہے کہ انہوں نے اسلام قبول کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 16032
وَعَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ قَالَ : قَدِمْتُ الْبَصْرَةَ فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ ، فَإِذَا بِشَيْخٍ أَبْيَضَ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ مُسْتَنِدًا إِلَى أُسْطُوَانَةٍ ، حَوْلَهُ حَلْقَةٌ يُحَدِّثُهُمْ . فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
بلال بن یساف بیان کرتے ہیں : میں بصرہ میں آیا ، میں مسجد میں داخل ہوا تو وہاں ایک بزرگ موجود تھے جن کے سر اور داڑھی کے بال سفید تھے ، وہ ایک ستون کے ساتھ ٹیک لگا کے بیٹھے ہوئے تھے ، ان کے اردگرد لوگوں کا حلقہ تھا اور وہ ان لوگوں کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے ، میں نے دریافت کیا : یہ کون صاحب ہیں ؟ تو لوگوں نے بتایا : یہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 16033
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ : مَا قَدِمَ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نُفَضِّلُهُ عَلَى عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کوئی فرد ( بصرہ میں ) ایسا نہیں آیا ، جسے ہم سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ پر فضیلت دیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 16034
وَعَنْ سُفْيَانَ قَالَ : مَا قَدِمَ الْبَصْرَةَ مِثْلُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ الْإِمَامَ أَحْمَدَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، وَإِنْ كَانَ هُوَ ابْنَ عُيَيْنَةَ فَقَدْ سَمِعَ مِنْهُ . ¤
محمد محی الدین
سفیان بیان کرتے ہیں : بصرہ میں سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ جیسا کوئی فرد نہیں آیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ امام أحمد نے سفیان ثوری نامی راوی سے سماع نہیں کیا ہے اور اگر سفیان سے مراد سفیان بن عیینہ ہو ، تو ان سے امام أحمد نے سماع کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ امام أحمد نے سفیان ثوری نامی راوی سے سماع نہیں کیا ہے اور اگر سفیان سے مراد سفیان بن عیینہ ہو ، تو ان سے امام أحمد نے سماع کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 16035
وَعَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدُّؤَلِيِّ قَالَ : قَدِمْتُ الْبَصْرَةَ وَبِهَا أَبُو نُجَيْدٍ : عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ، وَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بَعَثَهُ يُفَقِّهُ أَهْلَ الْبَصْرَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابواسود دؤلی بیان کرتے ہیں : میں بصرہ آیا وہاں سیدنا ابونجید عمران بن حصین رضی اللہ عنہ موجود تھے ، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں اہل بصرہ کی تعلیم و تربیت کے لئے بھیجا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 16036
وَعَنِ الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ : أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ قَالَ : مَا مَسَسْتُ ذَكَرِي بِيَمِينِي مُنْذُ بَايَعْتُ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ سَهْلٍ الْمَازِنِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : رُبَّمَا خَالَفَ ، وَضَعَّفَهُ الْعُقَيْلِيُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
حکم بن اعرج بیان کرتے ہیں : سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب سے میں نے دائیں ہاتھ کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی ہے ، اُس کے بعد میں نے دائیں ہاتھ کے ذریعے کبھی اپنی شرمگاہ کو نہیں چھوا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن سہل مازنی ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے وہ کہتے ہیں یہ بعض اوقات دوسروں کے برخلاف نقل کرتا ہے عقیلی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن سہل مازنی ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے وہ کہتے ہیں یہ بعض اوقات دوسروں کے برخلاف نقل کرتا ہے عقیلی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 16037
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ - مَوْلَى عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ - : أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ الْحُصَيْنِ قُتِلَ لَهُ أَخٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَقَتَلَ بِهِ سَبْعِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَطَاءٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
عطاء بن ابومیمونہ ، جو سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کا ایک بھائی زمانہ جاہلیت میں قتل ہوا تھا ، تو انہوں نے اس کے بدلے میں ستر افراد کو قتل کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابراہیم بن عطاء نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابراہیم بن عطاء نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 16038
وَعَنْ هَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالِ قَالَ : مَاتَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ سَنَةَ ثِنْتَيْنِ وَخَمْسِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
ہارون بن عبدالله حمال بیان کرتے ہیں : سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کا انتقال 52 ہجری میں ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔