کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت معاویہ بن معاویہ لیثی رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 16014
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِتَبُوكَ ، فَطَلَعَتِ الشَّمْسُ بِضِيَاءٍ وَشُعَاعٍ وَنُورٍ لَمْ نَرَهَا طَلَعَتْ فِيمَا مَضَى بِمِثْلِهِ ، فَأَتَى جِبْرِيلُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا جِبْرِيلُ ، مَا لِي أَرَى الشَّمْسَ الْيَوْمَ طَلَعَتْ بِضِيَاءٍ وَنُورٍ وَشُعَاعٍ لَمْ أَرَهَا طَلَعَتْ فِيمَا مَضَى ؟ " . قَالَ : إِنَّ ذَلِكَ مُعَاوِيَةُ بْنُ مُعَاوِيَةَ اللَّيْثِيُّ مَاتَ بِالْمَدِينَةِ الْيَوْمَ ، فَبَعَثَ اللَّهُ عَلَيْهِ أَلْفَ مَلَكٍ يُصَلُّونَ عَلَيْهِ قَالَ : " وَفِيمَ ذَلِكَ ؟ " . قَالَ : كَانَ يُكْثِرُ قِرَاءَةَ : ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ) فِي اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ، وَفِي مَمْشَاهُ وَقِيَامِهِ وَقُعُودِهِ ، فَهَلْ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنْ أَقْبِضَ لَكَ الْأَرْضَ فَتُصَلِّي عَلَيْهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . فَصَلَّى عَلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ الْعَلَاءُ بْنُ زَيْدَلٍ أَبُو مُحَمَّدٍ الثَّقَفِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تبوک میں موجود تھے ، جب سورج نکلا تو اس کی روشنی تیز تھی ، اس سے پہلے ہم نے اس کو کبھی اس طرح چمکدار عالم میں طلوع ہوتے ہوئے نہیں دیکھا تھا ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے جبرائیل ! کیا وجہ ہے کہ آج میں دیکھ رہا ہوں کہ سورج کی روشنی بہت تیز ہے ؟ اس سے پہلے میں نے کبھی اسے اس طرح طلوع ہوتے ہوئے نہیں دیکھا ، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے بتایا کہ مدینہ منورہ میں آج سیدنا معاویہ بن معاویہ لیثی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف ایک ہزار فرشتے بھیجے ہیں ، تاکہ وہ ان کی نماز جنازہ ادا کریں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اس کی وجہ کیا ہے ؟ تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے بتایا : وہ رات اور دن میں ، چلتے ہوئے قیام کے دوران ، بیٹھنے کے دوران ، کثرت کے ساتھ سورہ اخلاص پڑھا کرتے تھے ، پھر انہوں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کیا آپ اس بات میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ میں آپ کے لئے زمین کو سمیٹ دوں اور آپ ان کی نماز جنازہ ادا کر لیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی نماز جنازہ ادا کی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علاء بن زیدل ابومحمد ثقفی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16014
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4267)»