کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 15652
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ : أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَحْشٍ قَالَ لَهُ يَوْمَ أُحُدٍ : أَلَا تَدْعُو اللَّهَ ؟ فَخَلَوْا فِي نَاحِيَةٍ ، فَدَعَا سَعْدٌ فَقَالَ : يَا رَبِّ ، إِذَا لَقِيتُ الْعَدُوَّ فَلَقِّنِي رَجُلًا شَدِيدًا بَأْسُهُ ، شَدِيدًا حَرْدُهُ ، أُقَاتِلُهُ وَيُقَاتِلُنِي فِيكَ ، ثُمَّ ارْزُقْنِي الظَّفَرَ عَلَيْهِ حَتَّى أَقْتُلَهُ وَآخُذَ سَلْبَهُ . فَأَمَّنَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَحْشٍ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي رَجُلًا شَدِيدًا حَرْدُهُ ، شَدِيدًا بَأْسُهُ ، أُقَاتِلُهُ فِيكَ وَيُقَاتِلُنِي ، ثُمَّ يَأْخُذُنِي فَيَجْدَعُ أَنْفِيَ وَأُذُنِيَ ، فَإِذَا لَقِيتُكَ غَدًا قُلْتَ : مَنْ جَدَعَ أَنْفَكَ وَأُذُنَكَ ؟ فَأَقُولُ : فِيكَ وَفِي رَسُولِكَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَقُولُ : صَدَقْتَ قَالَ سَعْدٌ : يَا بُنَيَّ ، كَانَتْ دَعْوَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ خَيْرًا مِنْ دَعْوَتِي ، لَقَدْ رَأَيْتُهُ آخِرَ النَّهَارِ ، وَإِنَّ أَنْفَهُ وَأُذُنَهُ لَمُعَلَّقَانِ فِي خَيْطٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد کے دن سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے اُن سے کہا: کیا تم اللہ تعالیٰ سے دعا نہیں کرو گے ؟ یہ دونوں حضرات ایک طرف ہوئے اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے یہ دعا کی : اے میرے پروردگار ! جب میں دشمن کے سامنے آؤں ، تو تو میرے سامنے ایک ایسے فرد کو لانا ، جو طاقتور لڑاکا ہو ، میں اس کے ساتھ لڑائی کروں اور وہ میرے ساتھ لڑائی کرے اور پھر تو مجھے اُس کے خلاف کامیابی عطا کرنا ، یہاں تک کہ میں اُسے قتل کر کے اس کا سامان حاصل کر لوں ، اس پر سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے آمین کہا: ، پھر انہوں نے یہ دعا کی : اے اللہ ! تو مجھے ایسا دشمن نصیب کرنا ، جو طاقتور اور لڑاکا ہو ، میں تیری راہ میں اس کے ساتھ لڑائی کروں ، اور وہ میرے ساتھ لڑائی کرے ، پھر وہ مجھے پکڑ کر میری ناک اور کان کاٹ دے ، پھر جب میں کل تیری بارگاہ میں حاضر ہوؤں ، تو تو دریافت کرنا : تمہاری ناک اور کان کس نے کاٹے ہیں ؟ تو میں جواب دوں گا : یہ تیری اور تیرے رسول کی راہ میں کٹے ہیں ، پھر تو یہ فرمانا : تم نے سچ کہا: ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کی دعا ، میری دعا سے بہتر تھی ، میں نے دن کے آخری حصے میں انہیں دیکھا ، اُن کی ناک اور اُن کے کان ایک دھاگے میں لٹکے ہوئے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15652
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح