کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: سیدہ ام خالد بنت اسود رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
حدیث نمبر: 15436
عَنْ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَنْ هَذِهِ ؟ " . فَقَالُوا : بَنَتُ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ ، فَقَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ " . - يَعْنِي الْمُؤْمِنَ مِنَ الْكَافِرِ - . ¤
محمد محی الدین
سیده ام خالد رضی اللہ عنہا بنت اسود بن عبدیغوث کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا : یہ اسود بن عبدیغوث کی بیٹی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو مردہ میں سے زندہ نکالتا ہے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ وہ کافر میں سے مومن کو نکال دیتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15436
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
حدیث نمبر: 15437
وَفِي رِوَايَةٍ : دَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَنْ هَذِهِ ؟ " . فَقَالُوا : بَعْضُ خَالَاتِكَ ، فَقَالَ : " إِنَّ خَالَاتِي فِي هَذِهِ الْأَرْضِ لَغَرَائِبُ ، مَنْ هَذِهِ ؟ " . قَالُوا : أُمُّ خَالِدٍ بِنْتُ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ ، فَقَالَ : " سُبْحَانَ الَّذِي يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ " . رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَإِسْنَادُ الثَّانِي حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے تو آپ نے دریافت کیا : یہ کون ہے ؟ تو لوگوں نے بتایا : یہ آپ کی ننھیالی عزیزہ ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس سرزمین پر میری خالاؤں کا ہونا حیران کن بات ہے ، یہ کون ہیں ؟ تو لوگوں نے بتایا : یہ ام خالد بنت اسود بن عبدیغوث ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پاک ہے وہ ذات جو مردہ میں سے زندہ کو نکالتا ہے ۔ “ یہ تمام روایات امام طبرانی نے نقل کی ہیں ، اس میں دوسری سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15437
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن