عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا غَضِبَ لَمْ يَجْتَرِئْ أَحَدٌ أَنْ يُكَلِّمَهُ إِلَّا عَلِيٌّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَسَقَطَ مِنْهُ التَّابِعِيُّ ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ حَسَنٍ الْأَشْقَرُ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب غصے میں ہوتے تھے تو کسی کو آپ سے بات کرنے کی جرأت نہیں ہوتی تھی البتہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا معاملہ مختلف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند سے تابعی کا نام ساقط ہے اس کی سند میں ایک راوی حسین بن حسن اشقر ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند سے تابعی کا نام ساقط ہے اس کی سند میں ایک راوی حسین بن حسن اشقر ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
عَنْ زَاذَانَ : أَنَّ عَلِيًّا حَدَّثَ بِحَدِيثٍ فَكَذَّبَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : أَدْعُو عَلَيْكَ إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا قَالَ : ادْعُ ، فَدَعَا عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَبْرَحْ حَتَّى ذَهَبَ بَصَرُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمَّارٌ الْحَضْرَمِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
زاذان بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک بات بیان کی ، ایک شخص نے انہیں جھٹلا دیا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : اگر تم جھوٹے ہوئے تو میں تمہارے لئے دعائے ضرر کروں گا ، اس نے کہا: آپ کر دیں ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کے خلاف دعائے ضرر کی ، تو کچھ ہی عرصہ گزرنے کے بعد اس شخص کی بینائی رخصت ہو گئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمار حضرمی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمار حضرمی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔