کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت علی رضی اللہ عنہ کی افضلیت کا بیان
حدیث نمبر: 14680
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ أَفْضَلَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ السَّكَنِ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ صَالِحٌ جَزَرَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم لوگ یہ بات چیت کیا کرتے تھے کہ اہل مدینہ میں سب سے زیادہ فضیلت والے فرد سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن سکن ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور صالح جزرہ نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14680
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2550)»
حدیث نمبر: 14681
وَعَنْهُ قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَبْعِينَ سُورَةً ، وَخَتَمْتُ الْقُرْآنَ عَلَى خَيْرِ النَّاسِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا مِنْ قَوْلِهِ : وَخَتَمْتُ إِلَى آخِرِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے وہ فرماتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ستر سورتیں تلاوت کی ہیں ، اور میں نے لوگوں میں سب سے بہتر سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے سامنے پورا قرآن ختم کیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت صحیح میں مذکور ہے ، تاہم اس میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے پورا قرآن ختم کرنے والا حصہ نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14681
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8446)»
حدیث نمبر: 14682
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ سَيِّدُ الْعَرَبِ ؟ " . قَالُوا : أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : " أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ ، وَعَلِيٌّ سَيِّدُ الْعَرَبِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ خَاقَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَهْتَمِ ضَعَّفَهُ أَبُو دَاوُدَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : عربوں کا سردار کون ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اولاد آدم کا سردار ہوں اور علی ، عربوں کا سردار ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خاقان بن عبداللہ بن اہتم ہے ، جسے امام ابوداؤد نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14682
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (1491)»