کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے معاملے کا بیان اور ان کی وفات کا بیان
وَعَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ بَكَّارٍ قَالَ : قُتِلَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِثَمَانِ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ سَنَةَ سِتٍّ وَثَلَاثِينَ بَعْدَ الْعَصْرِ ، وَهُوَ ابْنُ اثْنَتَيْنِ وَثَمَانِينَ سَنَةً ، وَكَانَ يَوْمَهُ صَائِمًا .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ .
محمد محی الدین
زبیر بن بکار بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو جمعہ کے دن اٹھارہ ذوالج چھتیس ہجری میں عصر کے بعد شہید کیا گیا ، اس وقت ان کی عمر بیاسی سال تھی اور اس دن انہوں نے روزہ رکھا ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
وَعَنْ أَبِي قِلَابَةَ : أَنَّ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ : ثُمَامَةُ كَانَ عَلَى صَنْعَاءَ ، فَلَمَّا جَاءَهُ قَتْلُ عُثْمَانَ ، خَطَبَ فَبَكَى بُكَاءً شَدِيدًا ، فَلَمَّا أَفَاقَ وَاسْتَفَاقَ قَالَ : الْيَوْمَ انْتُزِعَتْ خِلَافَةُ النُّبُوَّةِ مِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَصَارَتْ مُلْكًا وَجَبْرِيَّةً ، مَنْ أَخَذَ شَيْئًا غَلَبَ عَلَيْهِ .
محمد محی الدین
ابوقلابہ بیان کرتے ہیں : قریش سے تعلق رکھنے والا ایک شخص جس کا نام ثمامہ تھا ، وہ صنعاء کا حکمران تھا ، جب اُسے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی اطلاع ملی تو وہ خطبہ دیتے ہوئے بہت زیادہ رویا ، جب اس کی طبیعت کچھ سنبھلی تو اس نے کہا: آج سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی امت سے نبوت کے منہاج والی خلافت الگ ہو گئی ہے ، اب بادشاہی اور آمریت ہو گی ، جو شخص کوئی چیز پکڑے گا ، وہ اس پر غالب آ جائے گا ۔
وَفِي رِوَايَةٍ : عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَدِيٍّ - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدنا ثمامہ بن عدی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ الفاظ منقول ہیں ، جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
قَالَ الطَّبَرَانِيُّ : أَنْشَدَنِي أَبُو خَلِيفَةَ ، فَقَالَ : أَنْشَدَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ التُّوزِيُّ قَالَ أَبُو خَلِيفَةَ : وَسَأَلْتُ الرِّيَاشِيَّ عَنْهُ ، فَقَالَ : هُوَ لِحَسَّانِ بْنِ ثَابِتٍ :
وَتَرَكْتُمُ غَزْوَ الدُّرُوبِ وَجِئْتُمُ لِقِتَالِ قَوْمٍ عِنْدَ قَبْرِ مُحَمَّدِ فَلَبِئْسَ هَدْيُ الصَّالِحِينَ هَدَيْتُمُ وَلَبِئْسَ فِعْلُ الْعَابِدِ الْمُجْتَهِدِ
.
وَتَرَكْتُمُ غَزْوَ الدُّرُوبِ وَجِئْتُمُ لِقِتَالِ قَوْمٍ عِنْدَ قَبْرِ مُحَمَّدِ فَلَبِئْسَ هَدْيُ الصَّالِحِينَ هَدَيْتُمُ وَلَبِئْسَ فِعْلُ الْعَابِدِ الْمُجْتَهِدِ
.
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : ابوخلیفہ نے مجھے یہ اشعار بیان کیے ، انہوں نے بتایا : ابومحمد توزی نے ہمیں یہ اشعار سنائے تھے ، ابوخلیفہ کہتے ہیں : میں نے ریاشی سے دریافت کیا ، تو انہوں نے بتایا : یہ اشعار سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے ہیں ( وہ کہتے ہیں : ) ” تم نے سرحدوں پر جنگ کرنے کو ترک کر دیا ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پبر کے پاس کچھ افراد کے ساتھ لڑنے کے لیے آ گئے ، تو تمہیں جس راستے پر ڈالا گیا وہ برا ہے ، اور عبادت گزار کوشش کرنے والے کا یہ فعل برا ہے ۔ “
وَأَنْشَدَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ : أَنْشَدَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الرِّيَاشِيُّ لِلَيْلَى الْأَخْيَلِيَّةِ :
أَبَعْدَ عُثْمَانَ تَرْجُو الْخَيْرَ أُمَّتُهُ قَدْ كَانَ أَفْضَلَ مَنْ يَمْشِي عَلَى سَاقِ خَلِيفَةُ اللَّهِ أَعْطَاهُمْ وَخَوَّلَهُمْ مَا كَانَ مِنْ ذَهَبٍ حُلْوٍ وَأَوْرَاقِ فَلَا تُكَذِّبْ بِوَعْدِ اللَّهِ وَاتَّقِهِ
وَلَا تَكُونَنْ عَلَى شَيْءٍ بِإِشْفَـاقِ وَلَا تَقُولَنْ لِشَيْءٍ سَوْفَ أَفْعَلُهُ قَدْ قَدَّرَ اللَّهُ مَـا كَـانَ امْرُؤٌ لَاقِ
.
أَبَعْدَ عُثْمَانَ تَرْجُو الْخَيْرَ أُمَّتُهُ قَدْ كَانَ أَفْضَلَ مَنْ يَمْشِي عَلَى سَاقِ خَلِيفَةُ اللَّهِ أَعْطَاهُمْ وَخَوَّلَهُمْ مَا كَانَ مِنْ ذَهَبٍ حُلْوٍ وَأَوْرَاقِ فَلَا تُكَذِّبْ بِوَعْدِ اللَّهِ وَاتَّقِهِ
وَلَا تَكُونَنْ عَلَى شَيْءٍ بِإِشْفَـاقِ وَلَا تَقُولَنْ لِشَيْءٍ سَوْفَ أَفْعَلُهُ قَدْ قَدَّرَ اللَّهُ مَـا كَـانَ امْرُؤٌ لَاقِ
.
محمد محی الدین
ابوخلیفہ نے ہمیں یہ اشعار سنائے انہوں نے بتایا : عباس بن فضل ریاشی نے ہمیں لیلی اخیلیہ کے یہ اشعار سنائے : ” کیا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد امت بھلائی کی امید رکھتی ہے ، حالانکہ وہ پنڈلی پر چلنے والوں ( یعنی انسانوں ) میں سب سے زیادہ فضیلت رکھتے تھے ، اللہ تعالیٰ کے خلیفہ نے انہیں عطیات اور مال و اسباب دیے ، جن کا تعلق سونے اور چاندی سے تھا ، تو تم اللہ تعالیٰ کے وعدے کی تکذیب نہ کرو اور اس سے ڈرتے رہو ، اور تم کسی چیز کے بارے میں خوفزدہ نہ ہونا ، اور کسی بھی چیز کے بارے میں یہ نہ کہنا : میں عنقریب ایسا کر لوں گا ، کیونکہ آدمی جس صورتحال کا سامنا کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ نے تقدیر میں طے کر دی ہے ۔ “