حدیث نمبر: 14490
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى عُثْمَانَ بِصَحْفَةٍ فِيهَا لَحْمٌ ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ وَرُقَيَّةُ جَالِسَةٌ ، فَمَا رَأَيْتُ اثْنَيْنِ أَحْسَنَ مِنْهُمَا ، فَجَعَلْتُ مَرَّةً أَنْظُرُ إِلَى رُقَيَّةَ وَمَرَّةً أَنْظُرُ إِلَى عُثْمَانَ ، فَلَمَّا رَجَعْتُ قَالَ لِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَدَخَلْتَ عَلَيْهِمَا ؟ " . قُلْتُ : نَعَمْ قَالَ : " فَهَلْ رَأَيْتَ زَوْجًا أَحْسَنَ مِنْهُمَا ؟ " . قُلْتُ : لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ جَعَلْتُ مَرَّةً أَنْظُرُ إِلَى رُقَيَّةَ وَمَرَّةً أَنْظُرُ إِلَى عُثْمَانَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَقَالَ : كَانَ هَذَا قَبْلَ نُزُولِ [ آيَةِ ] الْحِجَابِ ، ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیالہ دے کر مجھے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا ، جس پیالے میں گوشت موجود تھا ، جب میں ان کے ہاں آیا تو سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا بیٹھی ہوئی تھیں ۔ میں نے ان دونوں سے زیادہ خوبصورت جوڑا کوئی نہیں دیکھا ، کبھی میں سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی طرف دیکھتا تھا کبھی میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھتا تھا ، جب میں واپس آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا : کیا تم ان کے ہاں گئے تھے ، میں نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم نے ان دونوں سے زیادہ خوبصورت جوڑا کوئی دیکھا ہے ، میں نے عرض کی : جی نہیں یا رسول اللہ ! میں بھی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی طرف دیکھتا تھا اور کبھی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے وہ کہتے ہیں ۔ یہ حجاب کا حکم نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے وہ کہتے ہیں ۔ یہ حجاب کا حکم نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 14491
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَزْمٍ الْمَازِنِيِّ قَالَ : رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَمَا رَأَيْتُ قَطُّ ذَكَرًا وَلَا أُنْثَى أَحْسَنَ وَجْهًا مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن حزم مازنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو دیکھا ، میں نے ان سے زیادہ خوبصورت چہرے والا کوئی مرد یا کوئی عورت نہیں دیکھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ربیع بن بدر ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ربیع بن بدر ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 14492
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ قَالَ : رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ يَوْمَ الْجُمْعَةِ عَلَى الْمِنْبَرِ ، عَلَيْهِ إِزَارٌ عَدَنِيٌّ غَلِيظٌ ، ثَمَنُهُ أَرْبَعَةُ دَرَاهِمَ أَوْ خَمْسَةٌ ، وَرَيْطَةٌ كُوفِيَّةٌ مُمَشَّقَةٌ ، ضَرْبُ اللَّحْمِ ، طَوِيلُ اللِّحْيَةِ ، حَسَنُ الْوَجْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدالله بن شداد بن الہاد بیان کرتے ہیں : میں نے جمعہ کے دن سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو منبر پر دیکھا ، انہوں نے عدنی تہبند باندھا ہوا تھا ، جو موٹا تھا اور اس کی قیمت چار یا شاید پانچ درہم تھی اور ایک کوفی چادر لی ہوئی تھی ، جس پر نقش و نگار بنے ہوئے تھے وہ بھرپور جسم کے مالک تھے ۔ ان کی داڑھی لمبی تھی اور چہرہ خوبصورت تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 14493
وَعَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ : كَانَ عُثْمَانُ يَوْمَ الْجُمْعَةِ يَتَوَكَّأُ عَلَى عَصًا ، وَكَانَ أَجْمَلَ النَّاسِ ، وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَصْفَرَانِ : إِزَارٌ وَرِدَاءٌ ، حَتَّى يَأْتِيَ الْمِنْبَرَ فَيَجْلِسَ عَلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ الْمِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
موسیٰ بن طلحہ بیان کرتے ہیں سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن عصا کے ساتھ ٹیک لگاتے تھے ، وہ سب سے زیادہ خوبصورت تھے ۔ ان کے جسم پر دو زرد لباس تھے ، ایک تہبند تھا اور ایک چادر تھی ، وہ منبر کے پاس آئے اور اس پر تشریف فرما ہوئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 14494
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْنٍ الْقَارِئِ قَالَ : رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ أَبْيَضَ اللِّحْيَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن عوف قاری بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے ان کی داڑھی سفید تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 14495
وَعَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ أَصْفَرَ اللِّحْيَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ مِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ابن ابوذئب نے عبدالرحمن بن سعد کا یہ قول نقل کیا ہے ، میں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو دیکھا ان کی داڑھی زرد تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 14496
وَعَنْ أُمِّ مُوسَى قَالَتْ : كَانَ عُثْمَانُ مِنْ أَجْمَلِ النَّاسِ . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرُ أُمِّ مُوسَى وَهِيَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
ام موسیٰ بیان کرتی ہیں : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ خوبصورت تھے ۔
یہ روایت عبداللہ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف اُم موسیٰ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہیں ۔
یہ روایت عبداللہ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف اُم موسیٰ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 14497
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ قَالَ : دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ ، فَإِذَا أَنَا بِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ مُتَّكِئٌ عَلَى رِدَائِهِ ، فَأَتَاهُ سَقَّاءَانِ يَخْتَصِمَانِ إِلَيْهِ ، فَقَضَى بَيْنَهُمَا . ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَإِذَا رَجُلٌ حَسَنُ الْوَجْهِ ، بِوَجْهِهِ نُكْتَاتُ جُدَرِيٍّ ، وَإِذَا شَعْرُهُ قَدْ كَسَا ذِرَاعَيْهِ . . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ ، وَفِيهِ أَبُو الْمِقْدَامِ : هِشَامُ بْنُ زِيَادٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
حسن بن ابوالحسن بیان کرتے ہیں : میں مسجد میں داخل ہوا تو میرے سامنے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے ، جو اپنی چادر کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھے ۔ ان کے پاس دو پانی بھرنے والے افراد آئے ، ان دونوں نے اپنا مقدمہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کے درمیان فیصلہ دیا ، پھر میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، میں نے ان کا بغور جائزہ لیا تو وہ ایک خوبصورت چہرے کے مالک شخص تھے ۔ ان کے چہرے پر جدری کے کچھ داغ تھے اور ان کے بالوں نے ان کی کلائیوں کو بھرا ہوا تھا ۔
یہ روایت عبداللہ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومقدام بن ہشام ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت عبداللہ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومقدام بن ہشام ہے ، اور وہ متروک ہے ۔