حدیث نمبر: 13845
عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنِّي عِنْدَ اللَّهِ لَخَاتَمُ النَّبِيِّينَ وَإِنَّ آدَمَ لَمُنْجَدِلٍ فِي طِينَتِهِ ، وَسَأُنَبِّئُكُمْ بِأَوَّلِ ذَلِكَ : أَنَا دَعْوَةُ إِبْرَاهِيمَ ، وَبُشْرَى عِيسَى ، وَرُؤْيَا أُمِّي الَّتِي رَأَتْ ، وَكَذَلِكَ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ يَرَيْنَ "
محمد محی الدین
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک خاتم النبیین ہوں ، جبکہ سیدنا آدم علیہ السلام اس وقت اپنی طینت میں گوندھے ہوئے تھے اور میں تمہیں اس بارے میں سب سے پہلی چیز کے بارے میں بتاتا ہوں ، میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا نتیجہ ہوں ، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی بیان کی ہوئی خوشخبری ہوں ، اور ان خوابوں کا نتیجہ ہوں جو میرے والدہ نے دیکھے تھے ، انبیاء کرام کی مائیں اسی طرح کے خواب دیکھتی ہیں ۔ “
حدیث نمبر: 13846
وَفِي رِوَايَةٍ : " وَإِنَّ أُمَّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأَتْ حِينَ وَضَعَتْهُ نُورًا أَضَاءَتْ مِنْهُ قُصُورَ الشَّامِ " .
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ نے جب آپ کو جنم دیا ، تو انہوں نے ایک نور دیکھا ، جس کی وجہ سے شام کے محلات روشن ہو گئے تھے ۔ “
حدیث نمبر: 13847
وَفِي رِوَايَةٍ : " وَبِشَارَةُ عِيسَى قَوْمَهُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ وَقَالَ : " سَأُحَدِّثُكُمْ تَأْوِيلَ ذَلِكَ : دَعْوَةُ إِبْرَاهِيمَ ، دَعَا : وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ . وَبِشَارَةُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ قَوْلُهُ : وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ . وَرُؤْيَا أُمِّي الَّتِي رَأَتْ فِي مَنَامِهَا ، أَنَّهَا وَضَعَتْ نُورًا أَضَاءَتْ مِنْهُ قُصُورُ الشَّامِ " . وَأَحَدُ أَسَانِيدِ أَحْمَدَ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ سَعِيدِ بْنِ سُوِيدٍ وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اور ( میں ) سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی اس خوشخبری سے متعلق ایک فرد ہوں ، جو خوشخبری اُنہوں نے اپنی قوم کو دی تھی ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے امام بزار اور امام طبرانی نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” میں تمہیں اس کے مفہوم کے بارے میں بتاتا ہوں ، سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی دعا سے مراد یہ دعا ہے : ” اے اللہ ! تو ان کے درمیان ایسے رسول کو مبعوث کرنا ، جو ان میں سے ہو ۔ “ سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی خوشخبری سے مراد ان کا یہ کہنا ہے : ” میں ایک ایسے رسول کی خوشخبری سنانے والا ہوں ، جو میرے بعد آئے گا اور جس کا نام أحمد ہو گا “ اور میری والدہ کے خواب سے مراد ، وہ خواب ہے ، جو انہوں نے سونے کے دوران دیکھا تھا کہ انہوں نے ایک نور کو جنم دیا ہے ، اور اس کی وجہ سے شام کے محلات روشن ہو گئے ۔ “ امام أحمد کی مختلف اسانید میں سے ، ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف سعید بن سوید کا معاملہ مختلف ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے امام بزار اور امام طبرانی نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” میں تمہیں اس کے مفہوم کے بارے میں بتاتا ہوں ، سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی دعا سے مراد یہ دعا ہے : ” اے اللہ ! تو ان کے درمیان ایسے رسول کو مبعوث کرنا ، جو ان میں سے ہو ۔ “ سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی خوشخبری سے مراد ان کا یہ کہنا ہے : ” میں ایک ایسے رسول کی خوشخبری سنانے والا ہوں ، جو میرے بعد آئے گا اور جس کا نام أحمد ہو گا “ اور میری والدہ کے خواب سے مراد ، وہ خواب ہے ، جو انہوں نے سونے کے دوران دیکھا تھا کہ انہوں نے ایک نور کو جنم دیا ہے ، اور اس کی وجہ سے شام کے محلات روشن ہو گئے ۔ “ امام أحمد کی مختلف اسانید میں سے ، ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف سعید بن سوید کا معاملہ مختلف ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 13848
وَعَنْ مَيْسَرَةَ الْفَجْرِ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَتَى كُتِبْتَ نَبِيًّا ؟ قَالَ : " وَآدَمُ بَيْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا میسرہ فجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کا نبی ہونا کب نوٹ کیا گیا ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب سیدنا آدم علیہ السلام روح اور جسم کے درمیان تھے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 13849
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَتَى جُعِلْتَ نَبِيًّا ؟ قَالَ : " وَآدَمُ بَيْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن شقیق ایک شخص کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کو کب نبی بنایا گیا ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب سیدنا آدم علیہ السلام روح اور جسم کے درمیان تھے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 13850
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَتَى كُتِبْتَ نَبِيًّا ؟ قَالَ : " وَآدَمُ بَيْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ الْجُعْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : عرض کی گی : یا رسول اللہ ! آپ کو کب نبی نوٹ کیا گیا ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب سیدنا آدم علیہ السلام روح اور جسم کے درمیان تھے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر بن یزید جعفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر بن یزید جعفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 13851
وَعَنْ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ : أَقْبَلَ أَعْرَابِيٌّ حَتَّى أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعِنْدَهُ خَلْقٌ مِنَ النَّاسِ فَقَالَ : أَلَا تُعْطِينِي شَيْئًا أَتَعَلَّمُهُ وَأَحْمِلُهُ وَيَنْفَعُنِي وَلَا يَضُرُّكَ ؟ فَقَالَ النَّاسُ : مَهْ ، اجْلِسْ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " دَعُوهُ ، فَإِنَّمَا يَسْأَلُ الرَّجُلُ لِيَعْلَمَ " . فَأَفْرَجُوا لَهُ حَتَّى جَلَسَ فَقَالَ : أَيُّ شَيْءٍ كَانَ مِنْ نُبُوَّتِكَ ؟ قَالَ : " أَخَذَ اللَّهُ الْمِيثَاقَ كَمَا أَخَذَ مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ " . ثُمَّ تَلَا : " ( وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُوحٍ وَإِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَأَخَذْنَا مِنْهُمْ مِيثَاقًا غَلِيظًا ) وَبُشْرَى الْمَسِيحِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ، وَرَأَتْ أُمُّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَنَامِهَا أَنَّهُ خَرَجَ مِنْ بَيْنِ رِجْلَيْهَا سِرَاجٌ أَضَاءَتْ لَهُ قُصُورُ الشَّامِ " . فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ : هَاهْ . وَأَدْنَى مِنْهُ رَأْسَهُ ، وَكَانَ فِي سَمْعِهِ شَيْءٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَوَرَاءَ ذَلِكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومریم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی آیا اور آ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ٹھہر گیا ، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بہت سے لوگ موجود تھے ، اس نے کہا: کیا آپ لوگ مجھے یہ موقع نہیں دیں گے کہ میں ان سے علم حاصل کروں اور اس بات کو سیکھ لوں جو مجھے نفع دے گی ، اس سے آپ کو کوئی نقصان نہیں ہو گا ، تو لوگوں نے کہا: ٹھیک ہے تم بیٹھ جاؤ ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے موقع دو ! یہ شخص اس لئے سوال کرنا چاہتا ہے ، تاکہ اسے علم ہو جائے ، لوگوں نے اس کے لئے کشادگی پیدا کی ، یہاں تک کہ وہ بیٹھ گیا اس نے دریافت کیا : آپ کی نبوت کیا چیز ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجھ سے میثاق لیا ، جس طرح اس نے انبیاء کرام سے میثاق لیا تھا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” اور جب ہم نے انبیاء سے ان کا میثاق لیا ، تم سے اور نوح ، ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ بن مریم سے ، اور ہم نے ان سے مضبوط عہد لیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) میں سیدنا مسیح عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی خوشخبری ہوں ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ نے خواب میں دیکھا تھا کہ ان کے درمیان سے ایک چراغ نکلا ، جس نے شام کے محلات کو روشن کر دیا ، تو اس دیہاتی نے کہا: ہاہ ، پھر اس نے اپنا سر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب کیا ، یوں محسوس ہوا جیسے اس کی سماعت میں کچھ کمزوری تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کے علاوہ بھی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔