کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: نبی اکرم ﷺ کے معاملے کا آغاز اور آپ ﷺ کے شرح صدر کا بیان
حدیث نمبر: 13841
عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : كَيْفَ كَانَ أَوَّلُ شَأْنِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : " كَانَتْ حَاضِنَتِي مِنْ بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ ، فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَابْنٌ لَهَا فِي بُهْمٍ لَنَا وَلَمْ نَأْخُذْ مَعَنَا زَادًا فَقُلْتُ : يَا أَخِي اذْهَبْ فَائْتِنَا بِزَادٍ مِنْ عِنْدِ أُمِّنَا . فَانْطَلَقَ أَخِي وَمَكَثْتُ عِنْدَ الْبُهْمِ ، فَأَقْبَلَ طَائِرَانِ أَبْيَضَانِ كَأَنَّهُمَا نَسْرَانِ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : أَهُوَ هُوَ ؟ قَالَ : نَعَمْ . فَأَقْبَلَا يَبْتَدِرَانِي ، فَأَخَذَانِي فَبَطَحَانِي إِلَى الْقَفَا ، فَشَقَّا بَطْنِي ثُمَّ اسْتَخْرَجَا قَلْبِي ، فَشَقَّاهُ فَأَخْرَجَا مِنْهُ عَلَقَتَيْنِ سَوْدَاوَيْنِ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : ائْتِنِي بِمَاءِ ثَلْجٍ . فَغَسَلَا بِهِ جَوْفِي ، ثُمَّ قَالَ : ائْتِنِي بِمَاءٍ بَرَدٍ . فَغَسَلَا بِهِ قَلْبِي ، ثُمَّ قَالَ : ائْتِنِي بِالسِّكِّينَةِ . فَدَارَهَا فِي قَلْبِي ، ثُمَّ قَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : حُصَّهُ فَحَصَّهُ ، وَخَتَمَ عَلَيْهِ بِخَاتَمِ النُّبُوَّةِ " . - وَفِي رِوَايَةٍ : " وَاخْتِمْ عَلَيْهِ بِخَاتَمِ النُّبُوَّةِ - قَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : اجْعَلْهُ فِي كِفَّةٍ ، وَاجْعَلْ أَلْفًا مِنْ أُمَّتِهِ فِي كِفَّةٍ . فَإِذَا أَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْأَلْفِ فَوْقِي أُشْفِقُ أَنْ يَخِرَّ عَلَيَّ بَعْضُهُمْ ، فَقَالَ : لَوْ أَنَّ أُمَّتَهُ وُزِنَتْ بِهِ لَمَالَ بِهِمْ . فَانْطَلَقَا وَتَرَكَانِي قَدْ فَرِقْتُ فَرَقًا شَدِيدًا ، ثُمَّ انْطَلَقْتُ إِلَى أُمِّي فَأَخْبَرْتُهَا بِالَّذِي لَقِيتُ ، فَأَشْفَقَتْ عَلَيَّ أَنْ يَكُونَ الْبَأْسُ بِي ، فَقَالَتْ : أُعِيذُكَ بِاللَّهِ . فَرَحَّلَتْ بَعِيرًا لَهَا فَجَعَلَتْنِي - أَوْ فَحَمَلَتْنِي - عَلَى الرَّحْلِ وَرَكِبَتْ خَلْفِي ، حَتَّى بَلَغْنَا إِلَى أُمِّي ، فَقَالَتْ : أَدَّيْتُ أَمَانَتِي وَذِمَّتِي . فَحَدَّثْتُهَا بِالَّذِي لَقِيتُ فَلَمْ يَرُعْهَا ذَلِكَ ، قَالَتْ : إِنِّي رَأَيْتُ خَرَجَ مِنِّي نُورٌ أَضَاءَتْ لَهُ قُصُورُ الشَّامِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَلَمْ يَسُقِ الْمَتْنَ ، وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عبد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اس نے کہا: یا رسول اللہ آپ کے معاملے کا آغاز کیسے ہوا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری دائی ماں کا تعلق بنو سعد بن بکر سے تھا ، ایک مرتبہ میں اور ان کا بیٹا جانوروں میں موجود تھے ، ہمارے پاس کھانے کے لئے کچھ نہیں تھا ، میں نے کہا: اے میرے بھائی ! تم جاؤ اور ہمارے لیے والدہ کے پاس سے کھانے کے لئے لے آؤ ، میرا بھائی چلا گیا اور میں جانوروں کے پاس ٹھہر گیا ، اسی دوران دو سفید رنگ کے پرندے آئے ، وہ دونوں باز لگ رہے تھے ، ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: کیا یہ وہی ہیں ؟ دوسرے نے کہا: جی ہاں ! وہ دونوں لپک کر میرے پاس آئے ، انہوں نے مجھے پکڑا اور مجھے چت لٹا دیا ، انہوں نے میرا پیٹ چیر دیا ، پھر انہوں نے میرا دل نکالا پھر اسے چیر دیا پھر اس میں سے دو سیاہ رنگ کے گوشت کے لوتھڑے نکالے ، پھر ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: میرے پاس ٹھنڈا پانی لے کر آؤ ، پھر ان دونوں نے اس پانی کے ذریعے میرے پیٹ کو دھویا ، پھر اس نے کہا: میرے پاس ٹھنڈا پانی لے کر آؤ ! انہوں نے اس کے ذریعے میرے دل کو دھویا ، پھر اس نے کہا: میرے پاس سکینت لے کے آؤ ! وہ انہوں نے میرے دل میں ڈال دی ، پھر ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: ان کو سی دو ! اس نے اُسے سی دیا اور اس پر مہر نبوت لگا دی ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : تم اس پر مہر نبوت لگا دو ! ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: انہیں ایک پلڑے میں رکھو اور ان کی امت کے ایک ہزار افراد کو دوسرے پلڑے میں رکھو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : جب میں نے اپنے اوپر ایک ہزار لوگوں کو دیکھا ، تو مجھے یہ ڈر ہوا کہ کہیں اُن میں سے کوئی میرے اوپر نہ گر جائے ، اس نے کہا: اگر ان کی پوری امت کے ساتھ ان کا وزن کیا جائے ، تو یہ ان سب سے وزنی ہوں گے ، پھر وہ دونوں چلے گئے اور مجھے چھوڑ گئے ، میں اس بات سے خوف زدہ ہو گیا ، پھر میں اپنیہ والدہ کے پاس آیا اور انہیں اس صورت حال کے بارے میں بتایا ، جس کا میں نے سامنا کیا تھا ، تو وہ بھی میرے حوالے سے پریشان ہو گئیں کہ مجھے کوئی چیز لاحق نہ ہو جائے ، تو انہوں نے کہا: میں تمہیں اللہ کی پناہ میں دیتی ہوں ، پھر انہوں نے اپنے اونٹ پر پالان رکھا اور مجھے اپنے ساتھ پالان پر سوار کروایا اور خود میرے پیچھے بیٹھ گئیں ، یہاں تک کہ ہم لوگ میری والدہ کے پاس پہنچ گئے ، تو سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے اپنی امانت اور ذمہ کو ادا کر دیا ہے ، پھر انہوں نے میری والدہ کو اس صورت حال کے بارے میں بتایا ، جس کا مجھے سامنا کرنا پڑا تھا ، تو میری والدہ اس سے حوالے سے پریشان نہیں ہوئیں ، انہوں نے بتایا : کہ میں نے اپنے میں سے ایک نور نکلتے ہوئے دیکھا تھا ، جس کی وجہ سے شام کے محلات روشن ہو گئے تھے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے انہوں نے اس کا متن نقل نہیں کیا ہے ، امام أحمد کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13841
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (131/17) أخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (184/4)»
حدیث نمبر: 13842
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا كَانَ بَدْءُ أَوَّلِ أَمْرِكَ ؟ قَالَ : " دَعْوَةُ إِبْرَاهِيمَ ، وَبُشْرَى عِيسَى ، وَرَأَتْ أُمِّي أَنَّهُ يَخْرُجُ مِنْهَا نُورٌ أَضَاءَتْ مِنْهُ قُصُورُ الشَّامِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ وَلَهُ شَوَاهِدُ تُقَوِّيهِ . وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کے معاملے کا آغاز کیسے ہوا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ( میں ) سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی دعا ، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی خوشخبری کا نتیجہ ہوں ، میری والدہ نے یہ چیز دیکھی کہ ان میں سے ایک نور نکلا اور اس نور کی وجہ سے شام کے محلات روشن ہو گئے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے اس روایت کے شواہد موجود ہیں ، جو اس کو تقویت دیتے ہیں ، یہ روایت امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13842
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7729) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (262/5)»
حدیث نمبر: 13843
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ جَرِيئًا عَلَى أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ أَشْيَاءَ لَا يَسْأَلُهُ عَنْهَا غَيْرُهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَوَّلُ مَا رَأَيْتَ مِنْ أَمْرِ النُّبُوَّةِ ؟ فَاسْتَوَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسًا وَقَالَ : " لَقَدْ سَأَلْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، إِنِّي لَفِي صَحْرَاءَ ابْنَ عَشْرِ سِنِينَ وَأَشْهُرٍ ، وَإِذَا بِكَلَامٍ فَوْقَ رَأْسِي ، وَإِذَا بِرَجُلٍ يَقُولُ لِرَجُلٍ : أَهُوَ هُوَ ؟ قَالَ : نَعَمْ . فَاسْتَقْبَلَانِي بِوُجُوهٍ لَمْ أَرَهَا لِخَلْقٍ قَطُّ ، وَأَرْوَاحٍ لَمْ أَجِدْهَا مِنْ خَلْقٍ قَطُّ ، وَثِيَابٍ لَمْ أَرَهَا عَلَى أَحَدٍ قَطُّ ، فَأَقْبَلَا إِلَيَّ يَمْشِيَانِ ، حَتَّى أَخَذَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِعَضُدِي ، لَا أَجِدُ لِأَخْذِهِمَا مَسًّا ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : أَضَجِعْهُ . فَأَضْجَعَانِي بِلَا قَصْرٍ وَلَا هَصْرٍ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : افْلِقْ صَدْرَهُ . فَهَوَى أَحَدُهُمَا إِلَى صَدْرِي فَفَلَقَهَا فِيمَا أَرَى بِلَا دَمٍ وَلَا وَجَعٍ ، فَقَالَ لَهُ : أَخْرِجِ الْغِلَّ وَالْحَسَدَ . فَأَخْرَجَ شَيْئًا كَهَيْئَةِ الْعَلَقَةِ ، ثُمَّ نَبَذَهَا فَطَرَحَهَا ، فَقَالَ لَهُ : أَدْخِلِ الرَّحْمَةَ وَالرَّأْفَةَ . فَإِذَا مِثْلُ الَّذِي أَخْرَجَ شَبِيهَ الْفِضَّةِ ، ثُمَّ هَزَّ إِبْهَامَ رِجْلِي الْيُمْنَى فَقَالَ : اغْدُ وَاسْلَمْ . فَرَجَعْتُ بِهَا أَغْدُو بِهَا رِقَّةً عَلَى الصَّغِيرِ وَرَحْمَةً عَلَى الْكَبِيرِ " . رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَثَّقَهُمُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی چیزوں کے بارے میں دریافت کرنے کی جرأت رکھتے تھے جن کے بارے میں اُن کے علاوہ کوئی اور دریافت نہیں کرتا تھا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! نبوت کے معاملے کے حوالے سے آپ نے سب سے پہلے جو چیز دیکھی تھی ، وہ کیا تھی ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے ہو کر بیٹھ گئے آپ نے ارشاد فرمایا : ” اے ابوہریرہ ! تم نے ایک اہم سوال کیا ہے ، ایک مرتبہ میں صحراء میں موجود تھا ، میری عمر دس سال کچھ ماہ ہو گی ، اس دوران میں نے اپنے اوپر سے بات چیت کرنے کی آواز سنی ، تو کوئی ایک فرد دوسرے سے کہہ رہا تھا : کہ کیا یہ وہی ہیں ؟ دوسرے نے جواب دیا : جی ہاں ! تو دونوں سامنے سے میری طرف آئے ، میں نے اس طرح کی مخلوق کبھی نہیں دیکھی تھی ، اور وہ ارواح تھیں ، اس طرح کی مخلوق میں نے کبھی نہیں دیکھی تھی ، ان کے لباس اس طرح کے تھے کہ میں نے ایسا لباس کبھی کسی کے جسم پر نہیں دیکھا تھا ، وہ دونوں چلتے ہوئے میرے پاس آئے یہاں تک کہ ان میں سے ہر ایک نے میرے بازو کو پکڑ لیا ، لیکن مجھے ان میں سے کسی کے چھونے کا محسوس نہیں ہو رہا تھا ، ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: تم انہیں لٹا دو ! ان دونوں نے مجھے سانس میں کوئی رکاوٹ پیدا کیے بغیر اور کسی عضو کو توڑے بغیر لٹا دیا ، ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: ان کے سینے کو چیر دو ! پھر ان میں سے ایک میرے سینے کی طرف جھکا ، اس نے اسے چیر دیا ، لیکن اس میں نہ کوئی خون نکلا ، نہ کوئی تکلیف محسوس ہوئی ، اس نے دوسرے سے کہا: تم کھوٹ اور حسد کو نکال دو ! تو اس نے ایک ایسی چیز نکالی جو جمے ہوئے خون کی مانند تھی ، اور پھر اسے ایک طرف رکھ دیا ، اس نے دوسرے سے کہا: اس میں رحمت اور مہربانی داخل کر دو ! تو وہ چاندی کی طرح کی کوئی چیز تھی ، جو لائی گئی ، پھر اس نے میرے دائیں پاؤں کے انگوٹھے کو ہلایا اور بولا: تم اُٹھ جاؤ اور تم سلامت رہو ! تو میں جب وہاں سے واپس آیا ، تو میری یہ حالت تھی کہ میں چھوٹے پر مہربان تھا اور بڑے پر رحمت کرنے والا تھا ۔
یہ روایت عبداللہ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، ابن حبان نے انہیں ثقہ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13843
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 13844
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَخْرَجَ حَشْوَةً فِي طَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ ، فَغَسَلَهَا ثُمَّ كَبَسَهَا حِكْمَةً وَنُورًا وَحِكْمَةً وَعِلْمًا " . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے سونے کے طشت میں پیٹ میں سے کچھ ( یعنی قلب اطہر ) نکالا ، اسے دھویا اور پھر اُس میں حکمت اور نور بھر دیا ، اور حکمت اور علم بھر دیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے ، جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13844
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (744)»