کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت اسحاق علیہ السلام کا تذکرہ
حدیث نمبر: 13771
عَنِ الْعَبَّاسِ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الذَّبِيحُ إِسْحَاقُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جنہیں ذبح کیا گیا ، وہ سیدنا اسحاق علیہ السلام تھے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / ( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين / حدیث: 13771
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2350)»
حدیث نمبر: 13772
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ خَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يَغْفِرَ لِنِصْفِ أُمَّتِي أَوْ شَفَاعَتِي ، فَاخْتَرْتُ شَفَاعَتِي ، وَرَجَوْتُ أَنْ تَكُونَ أَعَمَّ لِأُمَّتِي ، وَلَوْلَا سَبْقُ الَّذِي دَعَا إِلَيْهِ الْعَبْدُ الصَّالِحُ ، لَعَجَّلْتُ دَعْوَتِي ، إِنَّ اللَّهَ لَمَّا فَرَّجَ عَنْ إِسْحَاقَ كَرْبَ الذَّبْحِ قِيلَ لَهُ : يَا إِسْحَاقُ ، سَلْ تُعْطَهُ . قَالَ : أَمَا وَاللَّهِ لَأَتَعَجَّلَنَّهَا قَبْلَ نَزَغَاتِ الشَّيْطَانِ ، اللَّهُمَّ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِكَ شَيْئًا قَدْ أَحْسَنَ ، فَاغْفِرْ لَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَشَيْخُ الطَّبَرَانِيِّ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ اختیار دیا کہ وہ میری نصف امت کی مغفرت کر دے ، یا مجھے شفاعت نصیب کر دے ، تو میں نے شفاعت کو اختیار کر لیا ، اور مجھے یہ امید ہے کہ یہ میری امت کے لئے عمومی ہو گی ، اگر یہ چیز پہلے سے نہ ہو چکی ہوتی ، جس کی طرف ایک نیک بندے نے دعا کی تھی ، تو میں نے اپنی دعا جلدی کر لینی تھی ، جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا اسحاق علیہ السلام کو ذبح ہونے کی تکلیف سے نجات عطا کی ، تو اُن سے کہا: گیا : اے اسحاق ! تم مانگو ! تمہیں دیا جائے گا ، تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ! میں شیطان کے حملے سے پہلے ، اس بارے میں جلدی کر لیتا ہوں : ” اے اللہ ! جو شخص ایسی حالت میں مرے کہ وہ کسی کو تیرا شریک نہ ٹھہراتا ہو ، تو اُس نے اچھائی کی ہو گی ، تو اُس کی مغفرت کر دینا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زید بن اسلم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اور امام طبرانی کے استاد سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / ( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين / حدیث: 13772
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف