کتب حدیث › مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب › باب: اس شخص کا بیان ، جس کے ساتھ بھلائی کرنا مناسب ہے
❮
❯
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الْمَعْرُوفَ لَا يَصْلُحُ إِلَّا لِذِي حَسَبٍ أَوْ دِينٍ أَوْ لِذِي حِلْمٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ سَلَمَةَ الْخَبَائِرِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بھلائی کرنا ، صرف کسی حسب والے ، یا دیندار ، یا بردبار شخص کے ساتھ مناسب ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن سلمہ خبائری ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13654
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7652) ، أخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 7652»
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تُدْخِلْ بَيْتَكَ إِلَّا تَقِيًّا ، وَلَا تُولِ مَعْرُوفَكَ إِلَّا مُؤْمِنًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ أَعْرِفُهُمْ .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم اپنے گھر میں صرف کسی پرہیزگار کو آنے دو ، اور اپنی بھلائی ، کسی مومن کے ساتھ ہی کرنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13655
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «أخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 8435»
وَعَنْ عَائِشَةَ مَرْفُوعًا قَالَ : " لَا تَصْلُحُ الصَّنِيعَةُ إِلَّا عِنْدَ ذِي حَسَبٍ أَوْ دِينٍ ، كَمَا لَا تَصْلُحُ الرِّيَاضَةُ إِلَّا فِي النَّجِيبِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ الْقَاسِمِ وَهُوَ كَذَّابٌ .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ” مرفوع “ روایت کے طور پر یہ بات نقل کرتی ہیں : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” بھلائی صرف کسی حسب والے یا دیندار کے ساتھ کرنا مناسب ہے ، جیسے کسی اچھی نسل ہی کے گھوڑے کی تربیت کرنا مناسب ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبید بن قاسم ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13656
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1954)»