کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان ، جس سے بھلے کی امید رکھی جائے ، لوگوں میں سب سے بہتر ، اور سب سے برے کا بیان
حدیث نمبر: 13651
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَفَ عَلَى نَاسٍ جُلُوسٍ فَقَالَ : " أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِكُمْ مِنْ شَرِّكُمْ ؟ " . فَسَكَتَ الْقَوْمُ ، فَأَعَادَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " خَيْرُكُمْ مَنْ يُرْجَى خَيْرُهُ وَيُؤْمَنُ شَرُّهُ ، وَشَرُّكُمْ مَنْ لَا يُرْجَى خَيْرُهُ وَلَا يُؤْمَنُ شَرُّهُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ بیٹھے ہوئے لوگوں کے پاس آ کر کھڑے ہوئے آپ نے فرمایا : کیا میں تمہیں تمہارے برے لوگوں کے مقابلے میں ، تمہارے بہتر لوگوں کے بارے میں بتاؤں ؟ لوگ خاموش رہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات تین مرتبہ دہرائی ، تو حاضرین میں سے ایک صاحب بولے : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں سب سے بہتر وہ ہے ، جس سے بھلائی کی امید رکھی جائے اور اس کے شر سے ( خود کو ) محفوظ سمجھا جائے ، اور تم میں سب سے برا وہ ہے ، جس سے بھلائی کی امید نہ رکھی جائے ، اور اس کے شر سے ( خود کو ) محفوظ نہ سمجھا جائے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13651
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (368/2)»
حدیث نمبر: 13652
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِشِرَارِكُمْ ؟ " . قَالُوا : بَلَى إِنْ شِئْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " إِنَّ شِرَارَكُمُ الَّذِي يَنْزِلُ وَحْدَهُ ، وَيَجْلِدُ عَبْدَهُ ، وَيَمْنَعُ رِفْدَهُ " . قَالَ : " أَفَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِنْ ذَلِكَ ؟ " . قَالُوا : بَلَى إِنْ شِئْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " مَنْ يُبْغِضُ النَّاسَ وَيُبْغِضُونَهُ " . قَالَ : " أَفَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِنْ ذَلِكَ ؟ " . قَالُوا : " بَلَى إِنْ شِئْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " الَّذِينَ لَا يُقِيلُونَ عَثْرَةً ، وَلَا يَقْبَلُونَ مَعْذِرَةً ، وَلَا يَغْفِرُونَ ذَنْبًا " . قَالَ : " أَفَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِنْ ذَلِكَ ؟ " . قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " مَنْ لَا يُرْجَى خَيْرُهُ وَلَا يُؤْمَنُ شَرُّهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَنْبَسُ بْنُ مَيْمُونٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہیں ، تمہارے برے لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! اگر آپ چاہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے برے لوگ وہ ہیں جو اکیلے پڑاؤ کرتے ہیں ، اپنے غلام کو کوڑے مارتے ہیں اور مہمان کو منع کرتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا میں تمہیں اس سے بھی زیادہ برے شخص کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جی ہاں ! اگر آپ چاہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ شخص ، جو لوگوں سے بغض رکھے اور لوگ اُس سے بغض رکھیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں تمہیں اس سے بھی زیادہ برے شخص کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! اگر آپ چاہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ لوگ جو لغزش کو چھوڑتے نہیں ہیں ، معذرت کو قبول نہیں کرتے ہیں ، اور گناہ کو بخشتے نہیں ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں تم لوگوں کو اس سے بھی زیادہ برے فرد کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس سے بھلائی کی امید نہ رکھی جائے ، اور اُس کے شر سے ( خود کو ) محفوظ نہ سمجھا جائے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عنبس بن میمون ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13652
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10775)»
حدیث نمبر: 13653
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِشِرَارِكُمْ ؟ " . قَالُوا : بَلَى . قَالَ : " شِرَارُكُمْ مَنْ يُتَّقَى شَرُّهُ وَلَا يُرْجَى خَيْرُهُ ، وَخِيَارُكُمْ مَنْ يُرْجَى خَيْرُهُ وَلَا يُتَّقَى شَرُّهُ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ سُحَيْمٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” کیا میں تمہیں تمہارے بدترین لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے بدترین لوگ وہ ہیں ، جن کے شر سے بچنے کی کوشش کی جائے ، اور جن سے بھلائی کی توقع نہ رکھی جائے ، اور تمہارے بہترین لوگ وہ ہیں ، جن سے بھلائی کی امید رکھی جائے اور ان کے شر سے بچنے کی ضرورت نہ ہو ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن سحیم ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13653
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (3910)»