کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان ، جو اس چیز کو حقیر سمجھے ، جو اس کے سامنے پیش کی جائے
حدیث نمبر: 13630
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ : دَخَلَ عَلَيَّ جَابِرٌ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَدَّمَ إِلَيْهِمْ خُبْزًا وَخَلًّا فَقَالَ : كُلُوا ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ ، إِنَّهُ هَلَاكٌ بِالرَّجُلِ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهِ النَّفَرُ مِنْ إِخْوَانِهِ فَيَحْتَقِرُ مَا فِي بَيْتِهِ أَنْ يُقَدِّمَهُ إِلَيْهِمْ ، وَهَلَاكٌ بِالْقَوْمِ أَنْ يَحْتَقِرُوا مَا قُدِّمَ إِلَيْهِمْ " . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَأَبُو يَعْلَى ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " وَكَفَى بِالْمَرْءِ شَرًّا أَنْ يَحْتَقِرَ مَا قُرِّبَ إِلَيْهِ " . وَفِي إِسْنَادِ أَبِي يَعْلَى أَبُو طَالِبٍ الْقَاصُّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَبِي يَعْلَى وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن عبید بن عمیر بیان کرتے ہیں : سیدنا جابر رضی اللہ عنہ چند صحابہ کرام کے ہمراہ ہمارے ہاں تشریف لائے ، انہوں نے اُن کے سامنے روٹی اور سرکہ پیش کیا ، تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ کھاؤ ! کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” سرکہ اچھا سالن ہے ، یہ چیز آدمی کے لئے ہلاکت کا باعث ہے کہ اُس کے ہاں اس کے کچھ بھائی آئیں اور وہ گھر میں موجود چیز کو اُن کے سامنے پیش کرنے کو حقیر سمجھے ، اور ان لوگوں کے لئے بھی یہ بات ہلاکت کا باعث ہے کہ وہ اس چیز کو حقیر سمجھیں ، جو اُن کے سامنے پیش کی گئی ہو ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، امام طبرانی نے معجم اوسط میں اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” آدمی کے برا ہونے کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ اُس چیز کو حقیر سمجھے جو اُس کے سامنے پیش کی گئی ہو ۔ “ امام ابویعلیٰ کی سند میں ایک راوی ابوطالب قصہ گو ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، ابویعلیٰ کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13630
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1981) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (471/3)»
حدیث نمبر: 13631
وَعَنْ أَبِي عَوَانَةَ أَنَّهُ قَالَ : صَنَعْتُ طَعَامًا ، فَدَعَوْتُ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشَ ، فَبَلَغَنِي عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ وَضَّاحًا دَعَانَا عَلَى عِرْقٍ عَامِرٍ وَرُمَّانٍ حَامِضٍ ، قَالَ : فَلَقِيتُ رَقَبَةَ بْنَ مَصْقَلَةَ ، فَشَكَوْتُهُ إِلَيْهِ فَقَالَ : أَكْفِيكَ . فَلَقِيَهُ فَقَالَ : يَا أَبَا مُحَمَّدٍ ، دَعَاكَ أَخٌ مِنْ إِخْوَانِنَا فَأَكْرَمَكَ ثُمَّ تَقُولُ : عَلَى عِرْقٍ عَامِرٍ وَرُمَّانٍ حَامِضٍ ؟ ! أَمَا وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُكَ إِلَّا شَرِسَ الطَّبِيعَةِ ، دَائِمَ الْقُطُوُبِ ، سَرِيعَ الْمَلَلِ ، مُسْتَخِفًّا بِحَقِّ الزَّوْرِ ، كَأَنَّكَ تُسْعَطُ الْخَرْدَلَ إِذَا سُئِلْتَ الْحِكْمَةَ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوعوانہ بیان کرتے ہیں : میں نے کھانا تیار کیا ، میں نے سلیمان اعمش کو بلایا ، اُن کے بارے میں مجھے یہ اطلاع ملی کہ انہوں نے یہ فرمایا : وضاح نے ہمیں گری ہوئی ( یعنی بغیر گوشت والی ) ہڈی اور کچے انار کے لیے بلایا ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : میری ملاقات رقبہ بن مصلقہ سے ہوئی ، میں نے ان کے سامنے اس بارے میں شکایت کی ، تو انہوں نے فرمایا : میں تمہاری جگہ کفایت کر لوں گا ، پھر ان کی سلیمان اعمش سے ملاقات ہوئی ، تو انہوں نے کہا: اے ابومحمد ! ہمارے ایک بھائی نے تمہاری دعوت کی اور تمہاری عزت افزائی کی اور تم نے یہ کہہ دیا : کہ گری ہوئی ہڈی اور ایک کچے انار پر دعوت ہوئی ہے ، اللہ کی قسم ! تمہارے بارے میں تو مجھے یہی پتہ ہے کہ تم بری طبیعت کے مالک ہو ، تمہارا مزاج ہمیشہ خراب رہتا ہے ، جلدی اکتاہٹ کا شکار ہو جاتے ہو ، ملاقات کے حق کی تخفیف کرتے ہو ، تم گویا ایسے ہو کہ جب تم سے حکمت کی بات پوچھی جائے تو تم ناک میں رائی کا دانہ ڈال لیتے ہو ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13631
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (2644)»