حدیث نمبر: 13627
عَنْ شَقِيقٍ ، أَوْ نَحْوِهِ - شَكَّ قَيْسٌ - أَنَّ سَلْمَانَ دَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ ، فَدَعَا لَهُ بِمَا كَانَ عِنْدَهُ فَقَالَ : لَوْلَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى - أَوْ لَوْلَا أَنَّا نُهِينَا - أَنْ يَتَكَلَّفَ أَحَدُنَا لِصَاحِبِهِ ، لَتَكَلَّفْنَا لَكَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِأَسَانِيدَ ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ الْكَبِيرِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ، وَلَمْ يَشُكَّ. ¤
محمد محی الدین
شقیق یا ان کے علاوہ کوئی اور صاحب بیان کرتے ہیں : یہ شک قیس نامی راوی کو ہے : سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ہاں ایک شخص آیا ، انہوں نے اس کے لئے وہ چیز منگوائی ، جو اُن کے گھر میں موجود تھی اور یہ فرمایا : اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع نہ کیا ہوتا ، راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : اگر ہمیں اس بات سے منع نہ کیا گیا ہوتا کہ ہم میں سے کوئی ایک اپنے ساتھی کے لئے تکلف کرے ، تو میں نے تمہارے لئے تکلف کرنا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، معجم کبیر کی اسانید میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ،
یہ روایت امام بزار نے اس کی مانند روایت کے طور پر ابووائل سے نقل کی ہے ، اور انہوں نے اس میں شک کا اظہار نہیں کیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، معجم کبیر کی اسانید میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ،
یہ روایت امام بزار نے اس کی مانند روایت کے طور پر ابووائل سے نقل کی ہے ، اور انہوں نے اس میں شک کا اظہار نہیں کیا ۔
حدیث نمبر: 13628
وَعَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي إِلَى سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ ، فَقَالَ سَلْمَانُ : لَوْلَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنِ التَّكَلُّفِ لَتَكَلَّفْتُ لَكُمْ ، ثُمَّ جَاءَ بِخُبْزٍ وَمِلْحٍ ، فَقَالَ صَاحِبِي : لَوْ كَانَ فِي مِلْحِنَا صَعْتَرٌ ، فَبَعَثَ سَلْمَانُ بِمَطْهَرَتِهِ فَرَهَنَهَا ، ثُمَّ جَاءَ بِصَعْتَرٍ ، فَلَمَّا أَكَلْنَا قَالَ صَاحِبِي : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي قَنَّعَنَا بِمَا رَزَقَنَا . فَقَالَ سَلْمَانُ : لَوْ قَنَعْتَ بِمَا رَزَقَكَ لَمْ تَكُنْ مَطْهَرَتِي مَرْهُونَةً . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الطُّوسِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
شقیق بن سلمہ بیان کرتے ہیں : میں اور میرا ایک ساتھی ، سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ، تو سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : اگر یہ بات نہ ہوتی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکلف سے منع کیا ہے ، تو میں نے تمہارے لئے تکلف کرنا تھا ، پھر وہ روٹی اور نمک لے کر آئے ، تو میرے ساتھی نے یہ کہا: اگر ہمارے نمک میں ” صعتر“ ہوتا تو مناسب تھا ، تو سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے اپنی طہارت کا برتن منگوا کر اسے رہن رکھوایا اور پھر اس کے ذریعے ” صعتر“ لے کر آئے ، جب ہم نے کھانا کھا لیا ، تو میرے ساتھی نے کہا: ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ، جس نے ہمیں اس کے بارے میں قناعت عطا کی ، جو رزق اس نے ہمیں دیا ، تو سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : اُس نے تمہیں جو رزق دیا تھا ، اگر تم نے اس پر قناعت کی ہوتی ، تو میرا طہارت کا برتن رہن نہیں رکھا جانا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، صرف محمد بن منصور طوسی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، صرف محمد بن منصور طوسی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 13629
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ : نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ نَتَكَلَّفَ لِلضَّيْفِ مَا لَيْسَ عِنْدَنَا . ¤
محمد محی الدین
ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع کیا ہے کہ ہم مہمان کے لئے اُس چیز کے حوالے سے تکلف کریں ، جو ہمارے پاس نہ ہو ۔ “