کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: والد ، اپنی اولاد کی تربیت سے کب معذور شمار ہوتا ہے ؟
حدیث نمبر: 13504
عَنْ أَبِي جُبَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْوَلَدُ سَيِّدٌ سَبْعُ سِنِينَ ، وَعَبْدٌ سَبْعُ سِنِينَ ، وَوَزِيرٌ سَبْعُ سِنِينَ ، فَإِنْ رَضِيتَ مُكَاتَفَتَهُ لِإِحْدَى وَعِشْرِينَ ، وَإِلَّا فَاضْرِبْ عَلَى جَنْبِهِ فَقَدِ اعْتَذَرْتَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : لَا يُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَفِيهِ زَيْدُ بْنُ جُبَيْرَةَ بْنِ مَحْمُودٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوجبیرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بچہ سات سال سردار ہوتا ہے ، سات سال غلام ہوتا ہے ، سات سال وزیر ہوتا ہے ، اگر تم اکیس سال کی عمر میں ، اس کے کردار سے راضی ہو ، تو ٹھیک ہے ، ورنہ اس کے پہلو پر ہاتھ مارو ! ( یعنی اس کی تربیت کرنے کے اب تم پابند نہیں رہے ہو ) اور تم نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عذر پیش کر دیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زید بن جبیرہ بن محمود ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زید بن جبیرہ بن محمود ہے اور وہ متروک ہے ۔