حدیث نمبر: 13477
عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ لِكُلِّ شَجَرَةٍ ثَمَرَةٌ ، وَثَمَرَةُ الْقَلْبِ الْوَلَدُ ، إِنَّ اللَّهَ لَا يَرْحَمُ مَنْ لَا يَرْحَمُ وَلَدَهُ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا رَحِيمٌ " . قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كُلُّنَا يَرْحَمُ . قَالَ : " لَيْسَ رَحْمَتُهُ أَنْ يَرْحَمَ أَحَدُكُمْ صَاحِبَهُ ، إِنَّمَا الرَّحْمَةُ أَنْ يَرْحَمَ النَّاسَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ أَبُو مَهْدِيٍّ سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ مَتْرُوكٌ ، وَقَالَ صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ : حَدَّثَنِي أَبُو مَهْدِيٍّ سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ مُؤَذِّنُ أَهْلِ حِمْصَ ، وَكَانَ ثِقَةً مَرْضِيًّا ، وَلَا يَصِحُّ إِسْنَادُ هَذِهِ الْحِكَايَةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ہر درخت کا پھل ہوتا ہے اور دل کا پھل ، اولاد ہے ، بے شک اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم نہیں کرتا ، جو اپنی اولاد پر رحم نہیں کرتا ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، جنت میں صرف رحم کرنے والا شخص داخل ہو گا ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم میں سے ہر ایک شخص رحم کرتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس رحمت یہ مراد نہیں ہے کہ تم میں سے کوئی ایک شخص اپنے ساتھی پر رحم کرے ، بلکہ رحمت سے مراد یہ ہے کہ وہ لوگوں پر رحم کرے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومہدی سعید بن سنان ہے اور وہ ضعیف اور متروک ہے ، صدقہ بن خالد بیان کرتے ہیں : ابومہدی سعید بن سنان ، جو اہل حمص کے مؤذن ہیں ، انہوں نے مجھے یہ حدیث بیان کی اور وہ ثقہ اور پسندیدہ فرد ہیں ، راوی کہتے ہیں : اس حکایت کی سند مستند نہیں ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومہدی سعید بن سنان ہے اور وہ ضعیف اور متروک ہے ، صدقہ بن خالد بیان کرتے ہیں : ابومہدی سعید بن سنان ، جو اہل حمص کے مؤذن ہیں ، انہوں نے مجھے یہ حدیث بیان کی اور وہ ثقہ اور پسندیدہ فرد ہیں ، راوی کہتے ہیں : اس حکایت کی سند مستند نہیں ہے ۔
حدیث نمبر: 13478
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْوَلَدُ ثَمَرَةُ الْقَلْبِ ، وَإِنَّهُ مَجْبَنَةٌ مَبْخَلَةٌ مَحْزَنَةٌ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ الْعَوْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اولاد ، دل کا پھل ہوتی ہے اور یہ آدمی کو کمزور کنجوس اور غمگین ( پریشان ) کر دیتی ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطیہ عوفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطیہ عوفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 13479
عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ : قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي وَفْدِ كِنْدَةَ ، فَقَالَ لِي : " هَلْ لَكَ مِنْ وَلَدٍ ؟ " . قُلْتُ : غُلَامٌ وُلِدَ لِي فِي مُخْرَجِي إِلَيْكَ مِنَ ابْنَةِ جَمَدٍ ، وَلَوَدِدْتُ أَنَّ مَكَانَهُ شِبَعَ الْقَوْمِ . قَالَ : " لَا تَقُلْ ذَاكَ ، فَإِنَّهُ فِيهِمْ قُرَّةَ عَيْنٍ ، وَأَجْرًا إِذَا قُبِضُوا ، ثُمَّ لَئِنْ قُلْتُ ذَلِكَ إِنَّهُ لَمَجْبَنَةٌ مَحْزَنَةٌ ، إِنَّهُمْ لَمَجْبَنَةٌ مَحْزَنَةٌ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ” کندہ “ کے وفد کے ہمراہ حاضر ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : کیا تمہاری اولاد ہے ؟ میں نے عرض کی : جب میں آپ کی طرف نکل کر آنے والا تھا ، تو اس وقت میرے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے ، جو جمد کی صاحبزادی سے ہوا ہے ، میری یہ خواہش تھی کہ اس کی جگہ مجھے یہ چیز مل جاتی ہے کہ میں لوگوں کو سیر ہو کے کھانا کھلا سکتا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ بات نہ کہو ، اولاد میں آنکھوں کی ٹھنڈک ہوتی ہے اور اگر اولاد کا انتقال ہو جائے تو اجر بھی ہوتا ہے ، تم یہ بات کہتے ہو ، اولاد تو آدمی کو بزدل اور غمگین کر دیتی ہے ، اولاد تو بزدل اور غمگین کر دیتی ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گی ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گی ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 13480
وَعَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ خَلَفٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ أَخَذَ حَسَنًا فَقَبَّلَهُ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ : " إِنَّ الْوَلَدَ مَبْخَلَةٌ مَجْهَلَةٌ مَجْبَنَةٌ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسود بن خلف رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ ( جو بچے تھے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پکڑ کر انہیں بوسہ دیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اولاد کنجوس ، سخت اور بزدل کر دیتی ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13481
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ النَّاسَ ، فَخَرَجَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فِي عُنُقِهِ خِرْقَةٌ يَجُرُّهَا ، فَعَثَرَ فِيهَا فَسَقَطَ عَلَى وَجْهِهِ ، فَنَزَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْمِنْبَرِ يُرِيدُهُ ، فَلَمَّا رَآهُ النَّاسُ أَخَذُوا الصَّبِيَّ فَأَتَوْهُ بِهِ ، فَأَخَذَهُ وَحَمَلَهُ فَقَالَ : " قَاتَلَ اللَّهُ الشَّيْطَانَ ، إِنَّ الْوَلَدَ فِتْنَةٌ ، وَاللَّهِ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ أَنِّي نَزَلْتُ عَنِ الْمِنْبَرِ حَتَّى أَتَيْتُ بِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ حَسَنٍ ، وَلَمْ يَنْسُبْهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيٍّ الْجَارُودِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھا آپ لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے ، اسی دوران سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما ( جو اس وقت بچے تھے ) وہ آئے ، ان کی گردن میں ایک کپڑا تھا جسے وہ کھینچ رہے تھے اور اس کی وجہ سے انہیں ٹھوکر لگی اور وہ گر گئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اُتر کر ان کی طرف جانے لگے ، جب لوگوں نے یہ صورت حال ملاحظہ کی تو انہوں نے بچے کو پکڑ لیا اور اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لیا اور گود میں بٹھا کر ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ شیطان کو برباد کرے ! اولاد آزمائش ہے ، اللہ کی قسم ! اللہ کی قسم ! میں یہی بات جانتا ہوں ، میں منبر سے نیچے اترا ، یہاں تک اسے لے آیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور اس کا اسم منسوب بیان نہیں کیا اور اس کے حوالے سے اسے عبداللہ بن علی جارودی سے نقل کیا ہے ، میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور اس کا اسم منسوب بیان نہیں کیا اور اس کے حوالے سے اسے عبداللہ بن علی جارودی سے نقل کیا ہے ، میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13482
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا وُلِدَ فِي أَهْلِ بَيْتٍ غُلَامٌ إِلَّا أَصْبَحَ فِيهِمْ عِزٌّ لَمْ يَكُنْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ هَاشِمُ بْنُ صَالِحٍ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَلَمْ يَجْرَحْهُ وَلَمْ يُوَثِّقْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس بھی گھرانے میں لڑکا پیدا ہوتا ہے ، تو ان کے درمیان ایسا غلبہ آ جاتا ہے ، جو پہلے نہیں تھا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہاشم بن صالح ہے ، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ، انہوں نے اس پر جرح بھی نہیں کی اور اس کی توثیق بھی نہیں کی ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہاشم بن صالح ہے ، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ، انہوں نے اس پر جرح بھی نہیں کی اور اس کی توثیق بھی نہیں کی ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گی ہے ۔
حدیث نمبر: 13483
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا وُلِدَتِ الْجَارِيَةُ بَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهَا مَلَكًا يَزُفُّ الْبَرَكَةَ زَفًّا ، يَقُولُ : ضَعِيفَةٌ خَرَجَتْ مِنْ ضَعِيفَةٍ ، الْقَيِّمُ عَلَيْهَا مُعَانٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَإِذَا وُلِدَ الْغُلَامُ بَعَثَ اللَّهُ إِلَيْهِ مَلَكًا مِنَ السَّمَاءِ فَقَبَّلَ بَيْنَ عَيْنَيْهِ وَقَالَ : اللَّهُ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ بَكْرٍ لَمْ يَنْسُبْهُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْمِصْرِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب بچی پیدا ہوتی ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف ایک فرشتے کو بھیجتا ہے جو برکت ڈالتا ہے اور یہ کہتا ہے : ایک کمزور وجود ، جو ایک کمزور وجود میں سے نکلا ہے ، اس کی دیکھ بھال کرنے والے شخص کی قیامت تک مدد کی جائے گی ، جب بچہ پیدا ہوتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ آسمان کی طرف سے ، اس کے پاس ایک فرشتہ بھیجتا ہے ، وہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیتا ہے اور یہ کہتا ہے : اللہ تعالیٰ نے تمہیں سلام کہا: ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد بکر کے حوالے سے نقل کی ہے ، انہوں نے اس کا اسم منسوب نہیں کیا ، اس کے حوالے سے یہ عبداللہ بن سلیمان مصری کے حوالے سے منقول ہے اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد بکر کے حوالے سے نقل کی ہے ، انہوں نے اس کا اسم منسوب نہیں کیا ، اس کے حوالے سے یہ عبداللہ بن سلیمان مصری کے حوالے سے منقول ہے اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13484
وَعَنْ نُبَيْطٍ - يَعْنِي ابْنَ شَرِيطٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا وُلِدَ لِلرَّجُلٍ ابْنَةٌ بَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَلَائِكَةً يَقُولُونَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ ، يَكْسُونَهَا بِأَجْنِحَتِهِمْ وَيَمْسَحُونَ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى رَأْسِهَا وَيَقُولُونَ : ضَعِيفَةٌ خَرَجَتْ مِنْ ضَعِيفَةٍ ، الْقَيِّمُ عَلَيْهَا مُعَانٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نبیط ، یعنی سیدنا نبیط بن شریط رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب کسی شخص کے ہاں بیٹی پیدا ہوتی ہے ، تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کو بھیجتا ہے ، جو یہ کہتے ہیں : تم پر سلام ہو ! اے اس گھر والو ! پھر وہ لوگ اُس بچی کو اپنے پروں کے ذریعے ڈھانپ لیتے ہیں ، اور اپنے ہاتھ اس کے سر پر پھیرتے ہیں ، اور یہ کہتے ہیں : ایک کمزور وجود جو ایک کمزور وجود سے نکلا ہے ، اس کی دیکھ بھال کرنے والے کی قیامت کے دن تک مدد ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 13485
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَكْرَهُوا الْبَنَاتَ ، فَإِنَّهُنَّ الْمُؤْنِسَاتُ الْغَالِيَاتُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم بیٹیوں کو ناپسند نہ کرو ! کیونکہ وہ محبت رکھنے والی اور ( بہت ) قیمتی ہوتی ہیں ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13486
وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبَّلَ حَسَنًا ، فَقَالَ لَهُ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ : لَقَدْ وُلِدَ لِي عَشْرٌ مَا قَبَّلْتُ وَاحِدًا مِنْهُمْ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَرْحَمُ اللَّهُ مَنْ لَا يَرْحَمُ النَّاسَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کا بوسہ لیا ، اقرع بن حابس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : میرے دس بچے ہیں ، میں نے اُن میں سے کسی کو کبھی بوسہ نہیں دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم نہیں کرتا ، جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13487
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا نَظَرَ الْوَالِدُ إِلَى وَلَدِهِ فَسَرَّهُ ، كَانَ لِلْوَالِدِ عِتْقُ نَسَمَةٍ " . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَإِنْ نَظَرَ ثَلَاثَمِائَةٍ وَسِتِّينَ نَظْرَةً ؟ قَالَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَقَالَ فِيهِ : لَا يُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ فِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَعْيَنَ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب والد اپنی اولاد کی طرف دیکھتا ہے اور خوش ہوتا ہے ، تو والد کو ایک جان ( یعنی غلام یا کنیز ) آزاد کرنے کا ثواب ملتا ہے ، عرض کی گی : یا رسول اللہ ! اگر وہ تین سو ساٹھ مرتبہ دیکھے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، انہوں نے اس میں یہ بات کہی ہے : کہ یہ روایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے اور اس کی سند حسن ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اعین ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، انہوں نے اس میں یہ بات کہی ہے : کہ یہ روایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے اور اس کی سند حسن ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اعین ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 13488
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " رِيحُ الْوَلَدِ مِنْ رِيحِ الْجَنَّةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اولاد کی خوشبو ، جنت کی خوشبو کا حصہ ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں اپنے استاد محمد بن عثمان بن سعید کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ راوی ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں اپنے استاد محمد بن عثمان بن سعید کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ راوی ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 13489
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا كَانَ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ ابْنٌ لَهُ فَقَبَّلَهُ وَأَجْلَسَهُ عَلَى فَخِذِهِ ، وَجَاءَتْهُ بَنِيَّةٌ لَهُ فَأَجْلَسَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا سَوَّيْتَ بَيْنَهُمَا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ فَقَالَ : حَدَّثَنَا بَعْضُ أَصْحَابِنَا وَلَمْ يُسَمِّهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ، اس کا بیٹا اس کے پاس آیا ، اس شخص نے اس کو بوسہ دیا اور اسے اپنے زانوں پر بٹھا لیا ، پھر اس کی بیٹی اس کے پاس آئی ، تو اُس شخص نے اسے اپنے آگے بٹھا لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے ان دونوں کے درمیان برابری کیوں نہیں رکھی ؟ “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ کہتے ہیں : ہمارے بعض اصحاب نے ہمیں یہ حدیث بیان کی ہے ، انہوں نے اس راوی کا نام بیان نہیں کیا ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ کہتے ہیں : ہمارے بعض اصحاب نے ہمیں یہ حدیث بیان کی ہے ، انہوں نے اس راوی کا نام بیان نہیں کیا ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔