کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: صلہ رحمی کرنا ، اگرچہ ( دوسرے فریق کی طرف سے ) قطع رحمی کی جا رہی ہو
حدیث نمبر: 13471
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي ذَوِي أَرْحَامٍ أَصِلُ وَيَقْطَعُونِي ، وَأَعْفُو وَيَظْلِمُونِي ، وَأُحْسِنُ وَيُسِيئُونَ ، أَفَأُكَافِئُهُمْ ؟ قَالَ : " [لَا] إِذًا تُتْرَكُونَ جَمِيعًا ، وَلَكِنْ خُذْ بِالْفَضْلِ وَصِلْهُمْ ، فَإِنَّهُ لَنْ يَزَالَ مَعَكَ مَلَكٌ ظَهِيرٌ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا كُنْتَ عَلَى ذَلِكَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے کچھ رشتے دار ہیں ، جن کے ساتھ میں اچھا سلوک کرتا ہوں اور وہ میرے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں ، میں درگزر کرتا ہوں اور وہ میرے ساتھ زیادتی کرتے ہیں ، میں اچھائی کرتا ہوں اور وہ برائی کرتے ہیں ، تو کیا میں انہیں ان کا بدلہ دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جی نہیں ! ایسی صورت میں تم سب لوگوں کو چھوڑا جائے گا ، البتہ تم اضافی چیز وصول کر لو اور ان کے ساتھ صلہ رحمی کرو ، تمہارے ساتھ مسلسل ایک فرشتہ رہے گا ، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مددگار ہو گا ، جب تک تم ایسا کرتے رہو گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ مدلس ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13471
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (6700)»
حدیث نمبر: 13472
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : أَوْصَانِي خَلِيلِي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ لَا تَأْخُذَنِي فِي اللَّهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ ، وَأَوْصَانِي بِصِلَةِ الرَّحِمِ وَإِنْ أَدْبَرَتْ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ وَالْبَزَّارُ وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ سَلَامِ بْنِ الْمُنْذِرِ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ تلقین کی تھی کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت مجھے اپنی گرفت میں نہ لے اور آپ نے مجھے صلہ رحمی کرنے کی تلقین کی تھی ، اگرچہ ( دوسرا رشتہ دار ) پیٹھ پھیر رہا ہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، یہ امام بزار نے بھی نقل کی ہے ، امام طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف سلام بن منذر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13472
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (758) أخرجه البزار فى المسند (3309) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1649 و 1648) اخرجه احمد فى المسند (15/5)»
حدیث نمبر: 13473
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ حَاسَبَهُ اللَّهُ حِسَابًا يَسِيرًا وَأَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِهِ " . قَالُوا : وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ؟ قَالَ : " تُعْطِي مَنْ حَرَمَكَ ، وَتَصِلُ مَنْ قَطَعَكَ ، وَتَعْفُو عَمَّنْ ظَلَمَكَ ، فَإِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ يُدْخِلُكَ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِهِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْيَمَامِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تین چیزیں جس شخص میں ہوں گی ، اللہ تعالیٰ اس سے آسان حساب لے گا اور اپنی رحمت کے ذریعے اسے جنت میں داخل کر دے گا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کیا ہیں ؟ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص تمہیں محروم رکھے تم اُسے دو ! جو شخص قطع رحمی کرے ، تم اُس کے ساتھ صلہ رحم کرو ، اور جو شخص تمہارے ساتھ ۔ زیادتی کرے ، تو اس سے درگزر کرو ، جب تم ایسا کرو گے ، تو اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی رحمت کے فضل سے جنت میں داخل کر دے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد یمامی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البر والصلة / حدیث: 13473
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1906)»