کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: خواتین کا راستے پر چلنا
حدیث نمبر: 13273
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَيْسَ لِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ فِي سَرَاةِ الطَّرِيقِ ، فَلْيَلْتَمِسْنَ حَافَّتَهَا وَلَا يَتَخَفَّفْنَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْمُدَنِيِّ وَهُوَ كَذَّابٌ وَوَثَّقَهُ الْحَاكِمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” راستے کے درمیانی حصے میں خواتین کا حصہ نہیں ہے انہیں اس کے کناروں پر چلنا چاہیے اور ان کی چلتے ہوئے آواز محسوس نہیں ہونی چاہیے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن یحیی مدنی ہے اور وہ کذاب ہے امام حاکم رحمہ اللہ نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13273
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
حدیث نمبر: 13274
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ حِمَاسٍ - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَيْسَ لِلنِّسَاءِ سَرَاةُ الطَّرِيقِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ إِسْحَاقَ بْنِ حَاجِبٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن حماس رضی اللہ عنہ جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” خواتین کو راستے کے درمیانی حصے میں چلنے کا حق نہیں ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد اسحاق بن حاجب کے حوالے سے نقل کی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13274
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 13275
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : لَأَنْ يُزَاحِمَنِي بَعِيرٌ مَطْلِيٌّ بِقَطْرَانٍ ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تُزَاحِمَنِي امْرَأَةٌ ( عَطِرَةٌ ) . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو الزَّعْرَاءِ ، وَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک ایسا اونٹ جو تارکول سے لتھڑا ہوا ہو ، وہ میرے سامنے آئے ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو گا کہ کوئی ایسی عورت میرے سامنے آئے ، جس نے عطر لگایا ہوا ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوزعراء ہے ، جسے عجلی اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13275
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9751)»