کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان ، جو نیکی کا حکم دیتا ہے ، لیکن وہ خود وہ کام نہیں کرتا
حدیث نمبر: 12179
عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَتَطَلَّعُونَ إِلَى أُنَاسٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَيَقُولُونَ : بِمَا دَخَلْتُمُ النَّارَ فَوَاللَّهِ مَا دَخَلْنَا الْجَنَّةَ إِلَّا بِمَا تَعَلَّمْنَا مِنْكُمْ ؟ فَيَقُولُونَ : إِنَّا كُنَّا نَقُولُ وَلَا نَفْعَلُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرٍ الدَّاهِرِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اہل جنت سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ اہل جہنم سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کی طرف جھانک کر دیکھیں گے اور یہ کہیں گے : تم لوگ کس وجہ سے جہنم میں داخل ہو گے ہو ؟ اللہ کی قسم ! ہم تو جنت میں صرف اس وجہ سے داخل ہوئے ہیں ، جو ہم نے تم سے علم حاصل کیا تھا ، تو وہ جواب دیں گے : ہم کہا: کرتے تھے ، لیکن ( عمل ) نہیں کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر داہری ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر داہری ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 12180
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَتَيْتُ لَيْلَةَ أُسَرِيَ بِي عَلَى رِجَالٍ تُقْرَضُ شِفَاهُهُمْ بِمَقَارِيضَ مِنْ نَارٍ ، قُلْتُ : مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ ؟ قَالَ : هَؤُلَاءِ خُطَبَاءُ أُمَّتِكَ الَّذِينَ يَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَيَنْسَوْنَ أَنْفُسَهُمْ وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ أَفَلَا يَعْقِلُونَ " ،
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جس رات مجھے معراج کروائی گئی ، میں کچھ ایسے لوگوں کے پاس آیا ، جن کے ہونٹ آگ کی قینچیوں کے ذریعے کاٹے جا رہے تھے ، میں نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے بتایا : یہ آپ کی امت کے خطیب ہیں ، جو لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے تھے اور اپنے آپ کو بھول جاتے تھے ، حالانکہ یہ لوگ کتاب کی تلاوت کرتے تھے ، کیا یہ عقل نہیں رکھتے تھے ؟ “ ۔
حدیث نمبر: 12181
وَفِي رِوَايَةٍ " تُقْرَضُ أَلْسِنَتُهُمْ بِمَقَارِيضَ مِنْ نَارٍ " . أَوْ قَالَ : " مِنْ حَدِيدٍ " ،
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” ان کی زبانیں آگ کی قینچیوں کے ذریعے کائی جائیں گی “ راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ” لوہے کی قینچیوں ۔ “
حدیث نمبر: 12182
وَفِي رِوَايَةٍ " أَتَيْتُ عَلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي فَرَأَيْتُ فِيهَا رِجَالًا تُقْطَعُ أَلْسِنَتُهُمْ وَشِفَاهُهُمْ " فَذَكَرَ نَحْوَهُ . رَوَاهَا كُلَّهَا أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ بِبَعْضِهَا وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ أَبِي يَعْلَى رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” جس رات مجھے معراج کراوئی گئی ، میں آسمانِ دنیا پر آیا ، تو میں نے وہاں کچھ لوگوں کو دیکھا ، جن کی زبانیں اور ہونٹ کاٹے جا رہے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ۔ یہ تمام روایات امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام بزار نے ان میں سے کچھ روایات نقل کی ہیں ، امام طبرانی نے معجم اوسط میں اسے نقل کیا ہے ، امام ابویعلیٰ کے مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 12183
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ دَعَا النَّاسَ إِلَى قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ وَلَمْ يَعْمَلْ هُوَ بِهِ لَمْ يَزَلْ فِي سُخْطِ اللَّهِ حَتَّى يَكُفَّ أَوْ يَعْمَلَ مَا قَالَ أَوْ دَعَا إِلَيْهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يُخْطِئُ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص لوگوں کو کسی قول یا عمل کی طرف دعوت دے اور وہ خود اس پر عمل نہ کرے ، تو وہ شخص مسلسل اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں رہتا ہے ، یہاں تک کہ وہ اس عمل سے رک جائے ، یا وہ عمل کرے ، جو اُس نے کہا: تھا ، یا جس کی طرف اس نے دعوت دی تھی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن خراش ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن خراش ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 12184
وَعَنْ عَامِرِ بْنِ شَهْرٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " خُذُوا بِقَوْلِ قُرَيْشٍ وَدَعُوا فِعْلَهُمْ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُجَالِدٍ ، وَقَدْ وُثِّقَ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عامر بن شہر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قریش کے ( اچھے ) قول کو اختیار کر لو اور اُن کے ( برے فعل کو چھوڑ دو ! “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف مجالد کا معاملہ مختلف ہے ، ویسے اُس کی توثیق کی گئی ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف مجالد کا معاملہ مختلف ہے ، ویسے اُس کی توثیق کی گئی ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔