حدیث نمبر: 11954
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَأَلْتُ رَبِّي عَنِ اللَّاهِينَ مِنْ ذُرِّيَّةِ الْبَشَرِ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ فَأَعْطَانِيهِمْ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مِنْ طُرُقٍ ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُتَوَكِّلِ وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَفْظُهَا " سَأَلْتُ اللَّهَ اللَّاهِينَ مِنْ ذُرِّيَّةِ الْبَشَرِ فَأَعْطَانِيهِمْ " . وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثٌ فِي تَفْسِيرِ اللَّاهِينَ فِي بَابِ الْأَطْفَالِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے اپنے پروردگار سے بنی نوع انسان کے بچوں کے بارے میں یہ دعا کی کہ وہ انہیں عذاب نہیں دے گا ، تو اس نے یہ چیز مجھے عطا کر دی ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے مختلف حوالوں سے نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبدالرحمن بن متوکل کا معاملہ مختلف ہے اور ان کی روایت کے الفاظ یہ ہیں : ” میں نے اللہ تعالیٰ سے بنی نوع انسان کے بچوں کے بارے میں دعا کی ، تو اللہ تعالیٰ نے وہ چیز مجھے عطا کر دی ۔ “ اس سے پہلے بچوں سے متعلق باب میں لفظ ” لا ہین “ کی وضاحت گزر چکی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے مختلف حوالوں سے نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبدالرحمن بن متوکل کا معاملہ مختلف ہے اور ان کی روایت کے الفاظ یہ ہیں : ” میں نے اللہ تعالیٰ سے بنی نوع انسان کے بچوں کے بارے میں دعا کی ، تو اللہ تعالیٰ نے وہ چیز مجھے عطا کر دی ۔ “ اس سے پہلے بچوں سے متعلق باب میں لفظ ” لا ہین “ کی وضاحت گزر چکی ہے ۔
حدیث نمبر: 11955
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ : سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ ؟ قَالَ : " هُمْ خَدَمُ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَثَّقَهُ يَحْيَى الْقَطَّانُ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں سوال کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ اہل جنت کے خدمت گزار ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباد بن منصور ہے ، جسے یحیی القطان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباد بن منصور ہے ، جسے یحیی القطان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 11956
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْأَطْفَالُ خَدَمُ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، إِلَّا أَنَّهُمَا قَالَا : " أَطْفَالُ الْمُشْرِكِينَ " ، وَفِي إِسْنَادِ أَبِي يَعْلَى يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَالَ فِيهِ ابْنُ مَعِينٍ : رَجُلُ صِدْقٍ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ عَدِيٍّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بچے اہل جنت کے خدمت گزار ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے ، امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” مشرکین کے بچے ۔ “ امام ابویعلیٰ کی سند میں ایک راوی یزید رقاشی ہے اور وہ ضعیف ہے ، اُس کے بارے میں یحیی بن معین نے کہا: ہے : یہ سچا آدمی ہے ، ابن عدی نے اسے ضعیف کہا: ہے ، ان دونوں روایات کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے ، امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” مشرکین کے بچے ۔ “ امام ابویعلیٰ کی سند میں ایک راوی یزید رقاشی ہے اور وہ ضعیف ہے ، اُس کے بارے میں یحیی بن معین نے کہا: ہے : یہ سچا آدمی ہے ، ابن عدی نے اسے ضعیف کہا: ہے ، ان دونوں روایات کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔