کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس چیز کو پرے کرنا ، جو بندے کی تقدیر میں نہ ہو
حدیث نمبر: 11903
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وُكِّلَ بِالْمُؤْمِنِ تِسْعُونَ وَمِائَةُ مَلَكٍ يَذُبُّونَ عَنْهُ مَا لَمْ يُقَدَّرْ عَلَيْهِ ، مِنْ ذَلِكَ الْبَصَرُ تِسْعَةُ أَمْلَاكٍ يَذُبُّونَ عَنْهُ كَمَا تَذُبُّونَ عَنْ قَصْعَةِ الْعَسَلِ الذُّبَابَ فِي الْيَوْمِ الصَّائِفِ ، وَمَا لَوْ بَدَا لَكُمْ لَرَأَيْتُمُوهُ عَلَى جَبَلٍ وَسَهْلٍ كُلُّهُمْ بَاسِطٌ يَدَيْهِ فَاغِرٌ فَاهُ ، وَمَا لَوْ وُكِّلَ الْعَبْدُ فِيهِ إِلَى نَفْسِهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ خَطَفَتْهُ الشَّيَاطِينُ " ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر مومن کے ساتھ ایک سو نوے فرشتے متعین کیے جاتے ہیں ، جو اس سے اس چیز کو پرے کرتے ہیں ، جو اس کے تقدیر میں اس کے خلاف نہ ہو ، ان میں سے کچھ فرشتے جو ، نو ہوتے ہیں ، وہ اس سے اس چیز کو یوں پرے کرتے ہیں ، جس طرح تم لوگ گرم دن میں شہد کے پیالے سے مکھیاں دور کرتے ہوں ، اگر وہ ( فرشتے ) تمہارے سامنے ظاہر ہوں ، تو تم انہیں ہر پہاڑ پر اور سیدھے راستے پر بھی دیکھ لو ، اور وہ سب اپنے ہاتھ کو پھیلائے ہوئے ہوں گے ، منہ کو کھولے ہوئے ہوں گے ، اور اگر انسان کو پلک جھپکنے کے عرصے کے لئے بھی اُس کے نفس کے سپرد کر دیا جائے ، تو شیاطین اُسے اچک کر لے جائیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔