حدیث نمبر: 11689
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَعَلَّمُوا كِتَابَ اللَّهِ وَتَعَاهَدُوهُ وَتَغَنَّوْا بِهِ ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَهُوَ أَشَدُّ تَفَلُّتًا مِنَ النَّعَمِ فِي الْعُقُلِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " لَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنَ الْمَخَاضِ فِي الْعُقُلِ " . وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ کی کتاب کا علم حاصل کرو ، اور اس کا دھیان رکھو ، اسے اچھی طرح سے پڑھو ، اُس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، یہ اس سے زیادہ تیزی سے نکلتا ہے ، جتنی تیزی سے کوئی اونٹ رسی سے نکلتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” یہ اس سے زیادہ تیزی سے نکلتا ہے ، جتنی تیزی سے کوئی حاملہ اونٹنی رسی سے نکلتی ہے “ ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” یہ اس سے زیادہ تیزی سے نکلتا ہے ، جتنی تیزی سے کوئی حاملہ اونٹنی رسی سے نکلتی ہے “ ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 11690
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَعَاهَدُوا الْقُرْآنَ ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ الْإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ إِلَى أَعْطَانِهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ الطَّبَرَانِيَّ أَحْمَدَ لَمْ يَنْسِبْهُ ، فَإِنْ كَانَ هُوَ ابْنَ الْخَلِيلِ فَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَهُ فَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قرآن کا دھیان رکھو ! اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، یہ انسانوں کے سینے سے ، اس سے زیادہ تیزی سے نکلتا ہے ، جتنی تیزی سے بندھا ہوا ، اونٹ اپنے بیٹھنے کی جگہ کی طرف نکلتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ امام طبرانی کے استاد أحمد کا اسم منسوب بیان نہیں کیا گیا ، اگر تو وہ أحمد بن خلیل ہے تو پھر وہ ضعیف ہے اور اگر اس کے علاوہ کوئی اور ہے ، تو پھر میں اُس سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ امام طبرانی کے استاد أحمد کا اسم منسوب بیان نہیں کیا گیا ، اگر تو وہ أحمد بن خلیل ہے تو پھر وہ ضعیف ہے اور اگر اس کے علاوہ کوئی اور ہے ، تو پھر میں اُس سے واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 11691
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " تَعَاهَدُوا الْقُرْآنَ ، فَلَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ نَوَازِعِ الطَّيْرِ إِلَى أَوْطَانِهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي الْكَبِيرِ : " تَعَاهَدُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ وَحْشِيٌّ " . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . وَرِجَالُ الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قرآن کا دھیان رکھو ! کیونکہ یہ انسانوں کے سینوں سے ، اس سے زیادہ تیزی سے نکلتا ہے ، جتنی تیزی سے پرندے اپنے گھونسلوں کی طرف جاتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، تاہم معجم کبیر میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” قرآن کا دھیان رکھو ! کیونکہ یہ بدکنے والا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت ” صحیح “ میں اس سیاق کے بغیر منقول ہے ۔ معجم صغیر اور معجم اوسط کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، تاہم معجم کبیر میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” قرآن کا دھیان رکھو ! کیونکہ یہ بدکنے والا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت ” صحیح “ میں اس سیاق کے بغیر منقول ہے ۔ معجم صغیر اور معجم اوسط کے رجال ثقہ ہیں ۔