حدیث نمبر: 11687
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَقُولُ : " عَوِّذُوا بِاللَّهِ مِنْ جُبِّ الْحَزَنِ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا جُبُّ الْحَزَنِ ؟ قَالَ : " جُبُّ وَادٍ فِي قَعْرِ جَهَنَّمَ تَتَعَوَّذُ مِنْهُ جَهَنَّمُ فِي كُلِّ يَوْمٍ أَرْبَعَمِائَةِ مَرَّةٍ ، أَعَدَّهُ اللَّهُ - تَعَالَى - لِلْقُرَّاءِ الْمُرَائِينَ بِأَعْمَالِهِمْ ، وَإِنَّ أَبْغَضَ الْخَلْقِ إِلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - قَارِئٌ يَزُورُ الْعُمَّالَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ بُكَيْرُ بْنُ شِهَابٍ الدَّامَغَانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِيمَنْ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُ فِي كِتَابِ الْخَوَارِجِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ ” جب حزن “ سے اللہ کی پناہ مانگو ! لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ” جب حزن “ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ جہنم میں موجود ایک وادی ہے جس سے جہنم روزانہ چار سو مرتبہ پناہ مانگتی ہے اللہ تعالیٰ نے یہ ( وادی ) اپنے اعمال کے ذریعے دکھاوا کرنے والے ، قرآن کے عالموں کے لئے تیار کی ہے ، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک اُس کی مخلوق میں ، سب سے ناپسندیدہ لوگ قرآن کے وہ عالم ہیں ، جو ریاستی اہلکاروں سے ملنے جاتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بکیر بن شہاب دامغانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے کچھ احادیث گزر چکی ہے ، جو کتاب ” الخوارج “ میں گزری ہیں اور اس شخص کے بارے میں ہیں ، جو قرآن پڑھے گا ، لیکن قرآن اُس شخص کے حلق سے آگے نہیں جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بکیر بن شہاب دامغانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے کچھ احادیث گزر چکی ہے ، جو کتاب ” الخوارج “ میں گزری ہیں اور اس شخص کے بارے میں ہیں ، جو قرآن پڑھے گا ، لیکن قرآن اُس شخص کے حلق سے آگے نہیں جائے گا ۔