عَنْ الْقَاسِمِ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : " مَثَلُ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَلَا يَعْمَلُ بِهِ كَمَثَلِ رَيْحَانَةٍ رِيحُهَا طَيِّبٌ ، وَلَا طَعْمَ لَهَا ، وَمَثَلُ الَّذِي يَعْمَلُ بِالْقُرْآنِ [ وَلَا يَقْرَؤُهُ ] كَمَثَلِ التَّمْرَةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلَا رِيحَ لَهَا ، وَمَثَلُ الَّذِي يَعْمَلُ بِالْقُرْآنِ وَيَقْرَؤُهُ كَمَثَلِ الْأُتْرُجَّةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ ، وَرِيحُهَا طَيِّبٌ ، وَمَثَلُ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَلَا يَعْمَلُ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ طَعْمُهَا خَبِيثٌ وَرِيحُهَا خَبِيثٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ . ¤
محمد محی الدین
قاسم بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جو شخص قرآن سیکھتا ہے اور اس پر عمل نہیں کرتا ، اُس کی مثال ریحانہ نامی پھول کی مانند ہے جس کی خوشبو عمدہ ہوتی ہے ؛ لیکن اس کا ذائقہ نہیں ہوتا اور جو شخص قرآن پر عمل کرتا ہے ، لیکن اس کو پڑھتا نہیں ہے اس کی مثال کھجور کی مانند ہے کہ جس کا ذائقہ اچھا ہوتا ہے ، لیکن اس کی خوشبو نہیں ہوتی اور جو شخص قرآن پر عمل کرتا ہے اور اسے پڑھتا ہے ، اس کی مثال ناشپاتی کی مانند ہے اس کا ذائقہ بھی اچھا ہوتا ہے اور خوشبو بھی اچھی ہوتی ہے ، اور جو شخص نہ قرآن پڑھتا ہے اور نہ اس پر عمل کرتا ہے ، اس کی مثال حنظلہ نامی بوٹی کی مانند ہے ، جس کا ذائقہ بھی کڑوا ہوتا ہے اور بو بھی بری ہوتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔