کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان ، جو قرآن کا علم حاصل کرے اور اُس کی تعلیم دے
حدیث نمبر: 11673
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خِيَارُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ ، وَثَّقَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں سے سب سے بہتر وہ ہے ، جو قرآن کا علم حاصل کرے اور اس کی تعلیم دے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سنان قزاز ہے ، جسے امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11673
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (379)»
حدیث نمبر: 11674
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَفَعَهُ ، قَالَ : " خَيْرُكُمْ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَأَقْرَأَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ فِيهِ شَرِيكٌ ، وَعَاصِمٌ ، وَكِلَاهُمَا ثِقَةٌ وَفِيهِمَا ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ” مرفوع “ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے ، جو قرآن پڑھے اور پڑھائے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شریک اور ایک راوی عاصم ہے ، یہ دونوں ثقہ ہیں اور ان دونوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11674
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (10325)»
حدیث نمبر: 11675
وَعَنْ كُلَيْبِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ : سَمِعَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ضَجَّةً فِي الْمَسْجِدِ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ وَيُقْرِئُونَهُ ، فَقَالَ : طُوبَى لِهَؤُلَاءِ . هَؤُلَاءِ كَانُوا أَحَبَّ النَّاسِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْغَاضِرِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَوَثَّقَهُ أَحْمَدُ فِي رِوَايَةٍ ، وَضَعَّفَهُ فِي غَيْرِهَا ، وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الثَّقَفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
کلیب بن شہاب بیان کرتے ہیں : سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے مسجد میں گونج کی آواز سنی ، لوگ قرآن پڑھ رہے تھے اور پڑھا رہے تھے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ان لوگوں کے لئے مبارکباد ہے ! یہ لوگ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک ، سب سے زیادہ پسندیدہ تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی حفص بن سلیمان غاضری ہے اور وہ متروک ہے ، ایک روایت کے مطابق امام أحمد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور دوسری روایت کے مطابق انہوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ، امام أحمد کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم ثقفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11675
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 11676
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ جُنَادَةَ قَالَ : كُنْتُ فِي أَوَّلِ مَنْ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ ، فَخَرَجْتُ مِنْ أَهْلِي مِنَ السَّرَاةِ غَدْوَةً ، فَأَتَيْتُ مِنًى عِنْدَ الْعَصْرِ ، فَصَاعَدْتُ فِي الْجَبَلِ ثُمَّ هَبَطْتُ ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَسْلَمْتُ وَعَلَّمَنِي قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ، وَ إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا ، وَعَلَّمَنِي هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ : سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ . وَقَالَ : " هُنَّ الْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ " ،
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن جنادہ بیان کرتے ہیں : طائف کے رہنے والوں میں سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے والا ، میں پہلا فرد تھا ، میں اپنے گھر والوں کے پاس سے صبح کے وقت نکلا تھا اور پھر میں عصر کے وقت منی آیا تھا ، میں پہاڑ پر چڑھا اور پھر میں اُترا ، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے اسلام قبول کیا ، آپ نے مجھے سورت اخلاص ، سورت زلزال کی تعلیم دی اور آپ نے مجھے ان کلمات کی تعلیم دی : ” اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے ، ہر طرح کی حمد ، اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ باقی رہ جانے والی نیکیاں ہیں “ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11676
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5483)»
حدیث نمبر: 11677
وَفِي رِوَايَةٍ : وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَوْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” سورت کافرون کی تعلیم دی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن حسن عوفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11677
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (5482)»
حدیث نمبر: 11678
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ يُقْرِئُ الرَّجُلَ الْآيَةَ ، ثُمَّ يَقُولُ : لَهِيَ خَيْرٌ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ ، أَوْ مِمَّا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ حَتَّى يَقُولَ ذَلِكَ فِي الْقُرْآنِ كُلِّهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ کسی شخص کو ایک آیت سکھاتے تھے پھر یہ فرماتے تھے : یہ آیت ( سیکھنا ) ہر اس چیز سے زیادہ بہتر ہے ، جس پر سورج طلوع ہوتا ہے اور ہر اس چیز سے زیادہ بہتر ہے ، جو بھی چیز زمین پر موجود ہے ، یہاں تک کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ پورے قرآن کے بارے میں یہی بات کہا: کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11678
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8663)»
حدیث نمبر: 11679
وَفِي رِوَايَةٍ : كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ إِذَا أَصْبَحَ أَتَاهُ النَّاسُ فِي دَارِهِ ، فَيَقُولُ : عَلَى مَكَانِكُمْ ، ثُمَّ يَمُرُّ بِالَّذِينِ يُقْرِئُهُمُ الْقُرْآنَ ، فَيَقُولُ : أَيَا فُلَانُ ، بِأَيِّ سُورَةٍ أَنْتَ ؟ فَيُخْبِرُهُ [ فَيَقُولُ ] فِي أَيِّ آيَةٍ ، فَيَفْتَحُ عَلَيْهِ الْآيَةَ الَّتِي تَلِيهَا ثُمَّ يَقُولُ : تَعَلَّمْهَا فَإِنَّهَا خَيْرٌ لَكَ مِمَّا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ . قَالَ : فَيَظُنُّ الرَّجُلُ أَنَّهُ لَيْسَ فِي الْقُرْآنِ آيَةٌ خَيْرٌ مِنْهَا ، ثُمَّ يَمُرُّ بِالْآخْرَ فَيَقُولُ لَهُ : مِثْلَ ذَلِكَ ، حَتَّى يَقُولَ ذَلِكَ لِكُلِّهِمْ . رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ الْجَمِيعِ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ مِنْ قَوْلِي : وَفِي رِوَايَةٍ مِنْ حَدِيثِ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس صبح کے وقت لوگ ان کے گھر آتے تھے ، تو آپ فرماتے تھے : تم لوگ اپنی جگہ پر رہو ! پھر وہ ان لوگوں کے پاس سے گزرتے تھے ، جنہیں انہوں نے قرآن پڑھانا ہوتا تھا اور پھر آپ فرماتے تھے : اے فلاں ! تم کون سی سورت پر ہو ؟ وہ انہیں بتاتا تھا تو آپ دریافت کرتے تھے : کون سی آیت پر ہو ؟ پھر وہ اس کے بعد والی آیت اسے سکھاتے تھے اور پھر یہ فرماتے تھے : تم اسے سیکھ لو ! کیونکہ یہ تمہارے لئے ہر اُس چیز سے زیادہ بہتر ہے ، جو آسمان اور زمین کے درمیان موجود ہے ، راوی کہتے ہیں : تو آدمی یہ سمجھتا تھا کہ شاید قرآن میں اُس سے بہتر آیت اور کوئی نہیں ہے ، پھر وہ دوسرے شخص کے پاس سے گزرتے تھے ، تو اُسے بھی یہی بات کہتے تھے ، یہاں تک کہ وہ سب لوگوں سے یہی بات کہتے تھے ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے نقل کی ہیں اور ان سب کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ایک روایت کے یہ الفاظ ہیں : کہ یہ ابوعبیدہ کے حوالے سے اُن کے والد سے منقول ہے اور ابوعبیدہ نے ، اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11679
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8662)»
حدیث نمبر: 11680
وَعَنِ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ : لَوْ قِيلَ لَأَحَدِكُمْ : لَوْ غَدَوْتَ إِلَى الْقَرْيَةِ كَانَ لَكَ أَرْبَعُ قَلَائِصَ ، كَانَ يَقُولُ : قَدْ أَبَى اللَّهُ لِي أَنْ أَغْدُوَ ، وَلَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ غَدَا فَتَعَلَّمَ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ كَانَتْ خَيْرًا لَهُ مِنْ أَرْبَعٍ وَأَرْبَعٍ وَأَرْبَعٍ ، حَتَّى عَدَّ شَيْئًا كَثِيرًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ أَبَا إِسْحَاقَ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
ابواسحاق بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” اگر تم میں سے کسی ایک شخص سے یہ کہا: جائے کہ : اگر تم صبح کے وقت بستی میں جاؤ ، تو تمہیں چار اونٹنیاں ملیں گی ، تو وہ شخص کہے گا : صبح کب ہو گی اور میں کب جاؤں گا ؟ تو اگر کوئی شخص صبح کے وقت جا کر ، اللہ کی کتاب کی ایک آیت کا علم حاصل کر لے ، تو یہ اس کے لئے چار اور مزید چار اور مزید چار ، یہاں تک کہ انہوں نے بہت سی تعداد گنوا کر فرمایا ( کہ اس سے بھی زیادہ اونٹنیاں ملنے سے بھی ) زیادہ بہتر ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ ابواسحاق نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11680
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8662)»