کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: سورت انشقاق کا بیان تم ضرور ایک منزل سے دوسری منزل کی طرف چڑھ کے جاؤ گے “
حدیث نمبر: 11477
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - أَنَّهُ قَالَ : لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ : " سَمَاءً بَعْدَ سَمَاءٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ الْأَوَّلِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ آیت منقول ہے : انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : ” تم ضرور ایک منزل سے دوسری منزل کی طرف چڑھ کے جاؤ گے “ پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ بات بتائی ہے کہ اس سے مراد ، ایک آسمان کے بعد ، دوسرا آسمان ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عبدالاول ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عبدالاول ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 11478
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَيْضًا لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ يَا مُحَمَّدُ ، [ يَعْنِي ] حَالًا بَعْدَ حَالٍ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” تم ضرور ایک منزل سے ، دوسری منزل کی طرف چڑھ کے جاؤ گے ۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ( اس سے مراد یہ ہے : ( اے محمد ! یعنی کہ ایک حال کے بعد دوسرا حال ہو گا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 11479
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ قَالَ : مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” تم ضرور ایک منزل سے ، دوسری منزل کی طرف چڑھ کے جاؤ گے “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اس سے مراد سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ( کہ وہ ایسا کریں گے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔