کتب حدیث › مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب › باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ لوگ تم سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ وہ کب آئے گی ؟ تو تمہارا اس کے ( مخصوص وقت کے ) تذکرے سے کیا واسطہ ہے ؟ اس کا اختتام تو تمہارے پروردگار کی طرف ہی ہونا ہے “
❮
❯
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : مَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْأَلُ عَنِ السَّاعَةِ حَتَّى نَزَلَتْ فِيمَ أَنْتَ مِنْ ذِكْرَاهَا إِلَى رَبِّكَ مُنْتَهَاهَا . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل ، قیامت کے بارے میں دریافت کرتے رہے ، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہو گئی : ” تمہارا اس کے ( مخصوص وقت کے ) تذکرے سے کیا واسطہ ہے ؟ اس کا اختتام ، تو تمہارے پروردگار کی طرف ہی ہونا ہے “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11465
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2279) ، أخرجه المستدرك على الصحيحين برقم: 7، وأخرجه مسند الإمام الشافعي برقم: 1803»
وَعَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُكْثِرُ ذِكْرَ السَّاعَةِ حَتَّى نَزَلَتْ فِيمَ أَنْتَ مِنْ ذِكْرَاهَا إِلَى رَبِّكَ مُنْتَهَاهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ .
محمد محی الدین
طارق بن شہاب بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، بکثرت قیامت کا ذکر کرتے تھے ، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہو گئی : ” تو تمہارا اس کے ( مخصوص وقت کے ) تذکرے سے کیا واسطہ ہے ؟ اس کا اختتام ، تو تمہارے پروردگار کی طرف ہی ہونا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11466
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8210) ، أخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 8210»