کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ لوگ تم سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ وہ کب آئے گی ؟ تو تمہارا اس کے ( مخصوص وقت کے ) تذکرے سے کیا واسطہ ہے ؟ اس کا اختتام تو تمہارے پروردگار کی طرف ہی ہونا ہے “
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : مَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْأَلُ عَنِ السَّاعَةِ حَتَّى نَزَلَتْ فِيمَ أَنْتَ مِنْ ذِكْرَاهَا إِلَى رَبِّكَ مُنْتَهَاهَا . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل ، قیامت کے بارے میں دریافت کرتے رہے ، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہو گئی : ” تمہارا اس کے ( مخصوص وقت کے ) تذکرے سے کیا واسطہ ہے ؟ اس کا اختتام ، تو تمہارے پروردگار کی طرف ہی ہونا ہے “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُكْثِرُ ذِكْرَ السَّاعَةِ حَتَّى نَزَلَتْ فِيمَ أَنْتَ مِنْ ذِكْرَاهَا إِلَى رَبِّكَ مُنْتَهَاهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ .
محمد محی الدین
طارق بن شہاب بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، بکثرت قیامت کا ذکر کرتے تھے ، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہو گئی : ” تو تمہارا اس کے ( مخصوص وقت کے ) تذکرے سے کیا واسطہ ہے ؟ اس کا اختتام ، تو تمہارے پروردگار کی طرف ہی ہونا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔