کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ لوگ تم سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ وہ کب آئے گی ؟ تو تمہارا اس کے ( مخصوص وقت کے ) تذکرے سے کیا واسطہ ہے ؟ اس کا اختتام تو تمہارے پروردگار کی طرف ہی ہونا ہے “
حدیث نمبر: 11465
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : مَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْأَلُ عَنِ السَّاعَةِ حَتَّى نَزَلَتْ فِيمَ أَنْتَ مِنْ ذِكْرَاهَا إِلَى رَبِّكَ مُنْتَهَاهَا . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسلسل ، قیامت کے بارے میں دریافت کیا جاتا رہا ، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہو گئی : ” تمہارا اس کے ( مخصوص وقت کے ) تذکرے سے کیا واسطہ ہے ؟ اس کا اختتام ، تو تمہارے پروردگار کی طرف ہی ہونا ہے “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11465
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2279)»
حدیث نمبر: 11466
وَعَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُكْثِرُ ذِكْرَ السَّاعَةِ حَتَّى نَزَلَتْ فِيمَ أَنْتَ مِنْ ذِكْرَاهَا إِلَى رَبِّكَ مُنْتَهَاهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
طارق بن شہاب بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، بکثرت قیامت کا ذکر کرتے تھے ، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہو گئی : ” تو تمہارا اس کے ( مخصوص وقت کے ) تذکرے سے کیا واسطہ ہے ؟ اس کا اختتام ، تو تمہارے پروردگار کی طرف ہی ہونا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11466
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8210)»